بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ جاؤ تم آزاد ہو


سوال

كوئی شخص شدید غصے کی حالت میں کہہ دے کہ" دونوں ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جاؤ آزاد ہو ،جس سے چاہو شادی کرلو"اور یہ الفاظ کئی مرتبہ کہہ دے ۔توکیا اس سے طلاق واقع ہوتی ہے یانہیں؟

جواب

ٓواضح رہے کہ لفظِ "آزاد "بذاتِ خود اگر چہ کنائی ہے، تاہم عرف میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے فقہائے کرامؒ نے اس کو طلاقِ صریحی میں شمار کرکے  اس سے وقوعِ طلاق کا قول کیا ہے۔

 صورت مسئولہ میں اگرخاوند نےبیوی سےدودفعہ سے زیادہ یہ کہا ہو کہ" جاؤ تم آزاد ہو"تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں  جس سے بیوی  مطلقہ مغلظہ ہوچکی ہے لہذا وہ شخص اس سے دوبارہ رجوع یا تجدیدِ نکاح کا حق نہیں رکھتا، تاہم اگر دودفعہ یہ الفاظ کہے  ہوں تو اس صورت میں دو طلاق رجعی واقع ہوئی ہیں لہذاعدت میں    اس کو رجوع کا حق حاصل ہو گااور عدت گزارنے کے بعد تجدید نکاح کرسکتاہے۔

 

فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وماذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.(ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج: 4 ص: 530)   

ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ او ثنتيين فی الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها  او يموت عنها ۔(الهداية ،باب الرجعة،فصل فيما تحل به المطلقة،ج:2،ص:409)


فتویٰ نمبر : 6802/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں