بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

الفاظِ طلاق کی تعداد میں شک واقع ہونے کاحکم


سوال

میں نے بیوی کے ساتھ مباحثہ کے دوران غصے کی حالت میں پتھر اٹھائے اور بیوی سے "تمہیں طلاق ہے"کے الفاظ کہے ،لیکن نہ مجھے پتھروں کی تعداد یقینی طور پر معلوم ہےاور نہ یہ کہ کتنی مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے ہیں۔میری بیوی کہتی ہے کہ مجھے ایک طلاق ملی ہےاور ایک مرتبہ طلاق کے الفاظ سنتے ہی لوگ مجھے کمرے میں لےگئےاور باقی طلاقوں کا مجھے پتہ نہیں ہے،البتہ میرا ایک کزن کہتا ہےکہ میں نے طلاق کے الفاظ تین بار استعمال کئے  ہیں جبکہ ایک شخص امجد نامی کہتا ہےکہ میں نے دو طلاقیں سنی ہیں۔اس موقع پر ایک خاتون موجود تھی اس کے مطابق تین طلاقیں ہیں۔شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

طلاق کے وقوع میں بنیادی حیثیت الفاظ کو ہے الفاظ  کہےبغیرطلاق واقع نہیں ہوتی،اگرکوئی    انگلیوں  سے اشارہ کرے یا پتھر پھینکےمگر  ان  کی عدد  کے ساتھ  تشبیہ   نہ دے   تو اس صورت میں ایک طلاق پر تلفظ  کرنے سے ایک  طلاق رجعی واقع ہوگی،اگرچہ ایک سے زائد انگلیوں  سے اشارہ کیا ہو یا ایک سےزائد پتھر پھینکے ہوں۔نیز طلاق کے الفاظ کی تعداد میں جب شک واقع ہوجائے تواگرایک عدد پر ظن غالب ہو،اس کے مطابق طلاق شمار ہوگی ورنہ سب سے کم عدد جوکہ یقینی ہے،وہ عدد شمار ہوگا۔ نیز اگر کوئی شخص دو یا تین طلاق کا مدعی ہواوراپنےدعوی کو ثابت کرنے کے لئے دو گواہوں کو بھی پیش کرے تو ایسی  صورت میں ان کا قول معتبر ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل نےاگراپنی بیوی سے یہ الفاظ" تمہیں طلاق ہے"کہے ہوں مگرواقعتاً اس کو یاد نہ ہو کہ کتنی مرتبہ اس نے مذکورہ الفاظ کہے ہیں اورنہ ہی کسی جانب ظن غالب ہو اور  تواس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے،جس کے بعد عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا اختیار ہوگااور آئندہ اس کے پاس دو طلاقوں کااختیار رہےگا۔ نیز سائل کے ذکرکردہ بیان کی روشنی میں گواہوں کا شرعی نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے کسی کا دعوی بھی معتبر نہ ہوگا۔

عن عمران بن حصین رضي اللّٰہ عنہ قال: "أمر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بشاہدین علی المدعي، والیمین علی المدعی علیہ.(السنن للدار قطني،باب في المرأة تقتل إذا ارتدت،رقم الحديث:4466،ص:332)

ولو قالت لزوجها طلقني فأشار بثلاث أصابع وأراد بذلك ثلاث تطليقات لا يقع ما لم يقل بلسانه.(الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني،الفصل الاول فی الطلاق الصريح،ج:1ص:424)

طالق هكذا مشيرا بالأصابع المنشورة وقع بعدده ولو لم يقل هكذا يقع واحدة۔۔۔۔أي بأن قال: أنت طالق وأشار بثلاث أصابع ونوى الثلاث ولم يذكر بلسانه فإنها تطلق واحدة۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطلاق،باب الصريح،مطلب في قولهم اليوم متی قرن بفعل ممتد،ج:4،ص:495)

ولو شک أطلق واحدة أو أکثر بني علی الأقل أي کما ذکرہ الإسبیجابي إلا أن یستیقن بالأکثر أو یکون أکبر ظنہ.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،ج:2،ص:283)

إذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية،الباب السادس في الرجعة،ج:1۔ص:47)


فتویٰ نمبر : 6780/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں