بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ كرنے والے کے ساتھ ڈیلنگ کرنا


سوال

ایک آدمی پراپرٹی ڈیلر ہے بائع اور مشتری کے لیے ڈیلنگ کرتا ہے خوا ہ پلاٹ میں ہو یا مکان میں یا زمین میں اور وہ دونوں سے ایک فیصد کمیشن لیتا ہے،اب مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ جن لوگوں کے لیے یہ ڈیلنگ کرتا ہے ان میں سے بعض آئس  وغیرہ کی سمگلنگ کرتے ہیں  تو اس صورت میں یہ ڈیلر خریدوفروخت کرسکتا ہے یا نہیں ،اور سمگلروں کےساتھ ڈیلنگ کے نتیجہ میں لیاجانے والا کمیشن شرعا ًحلال ہوگا یا حرام؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے آئس  يا ديگر  نشہ آور اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ، ترسیل یا کا روبار میں کسی درجہ میں معاون کا کردار اداکرنایا آلۂ کار بننا انسانی معاشرہ کو تباہ کرکے قہر خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ اس لیے منشیات کے کاروبار میں جو آمدنی حاصل ہو وه حرام ہے۔

صورتِ مسئولہ میں آئس كى  سملنگ کرنے والے كے ساتھ معاملات کرنا یا اس کے معاملات میں ثالث بن کر کمیشن لینا جائز نہیں ۔

 

قال الله تعالى:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.(المائدة:2)

وقال النبي صلى الله عليه وسلم:لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه.(سنن أبي داؤد،باب العنب يعصر الخمر،ج:3،ص:326)

عن جابر بن عبد الله، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر، والميتة، والخنزير، والأصنام.(الصحيح لمسلم،باب تحريم بيع الخمر والميتة،ج:3،ص:1207)

قال العلامة الحدار اليمني:ولايجوز أكل البنج والحشيشة والأفيون وذالك كله حرام.(الجوهرة النيرة،كتاب الأشربة،ج:2،ص:270)

‌الحرام ‌ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه، بخلاف البيع الفاسد فإنه لا يطيب له لفساد عقده ويطيب للمشتري منه لصحة عقده. قال ابن عابدین: (قوله ‌الحرام ‌ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا (قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع.(ردالمحتار على الدرالمختار ،باب البيع الفاسد،ض؛5،ص:98)


فتویٰ نمبر : 3407/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں