بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

قمار كی ايک صورت


سوال

ہمارے علاقہ میں کوئلہ کا پہاڑ ہے اس کے اندر کوئلہ ہے اور حکومت سے لیز بھی ہوا ہے لیکن اس پر بہت خرچہ آتا ہے اس کےلیے ہماری  قوم کے بڑے(سردار کے حکم سے) یہ اعلان ہواہے کہ قوم میں سے جو بھی شخص اس منصوبے میں ایک لاکھ روپے جمع کروائے گاتو کوئلہ برآمد ہونے پر اس کو خصوصی حصہ ملے گاورنہ نہیں (یعنی ایک لاکھ جمع نہ کرنے کی صورت میں نہیں ملے گا)جب کہ قوم کی سطح پر عمومی حصہ تو ہر شخص کو ملتا ہے لیکن خصوصی  حصہ کے لیے ایک لاکھ روپے جمع کروانے ہوں گے،اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ اگر کوئلہ نہ نکلا تو یہ ایک لاکھ روپے واپس نہیں ہوں گے،دوسری صورت یہ ہے کہ کوئلہ نکلنے کے بعد یہ منصوبہ 15سال تک ہوگااس کا اگریمنٹ ہوچکا ہے اس کے بعد پھر مکمل قوم کو حوالہ کرے گااسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کے پاس ایک لاکھ روپے موجود نہیں ہوتے تو وہ قوم سے باہر کسی شخص سے اس شرط پر پیسے لیتا ہے کہ اگر کوئلہ نکلا اور نفع آگیا تو اس میں آدھا آپ کو دوں گایا 30فیصد اور اگر نقصان ہو اتو پیسے آپ کے ضائع ہوں گے اور آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گااب پوچھنا یہ ہے کہ یہ پہلا والامعاملہ شرعا کیا حکم رکھتا ہے ؟اور پھر یہ شخص جو کسی اور سے پیسے لیتا ہے اس کیاحکم ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کے روسے جس معاملے میں کسی مال کےمالک بنانے کو ایسی شرط پر موقوف رکھا جائے جس کے وجود وعدم کی دونوں جانبین مساوی ہوں،تو ایسا معاملے کو قمار(جوا) کہا جاتا ہے اور قمار(جوا) شرعا ناجائز اور حرام ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  ایک لاکھ روپے  اس شرط پر لینا کہ اگر کوئلہ نکل آیا تو اس کو خصوصی حصہ دیا جائے گا اور اگر نہیں نکلا تو اس کے پیسے ضا ئع ہوجائیں گے یہ ایسا معاملہ ہے جس میں نفع آنا اور نہ آنا دونوں جانب مساوی ہیں اس لیے  یہ قمار کے حکم میں ہوکر شرعا جائز نہیں ۔

اسی طرح قوم سے باہر کسی شخص سے  اس شرط پر پیسے لیناکہ اگر کوئلہ نکلا تو آپ  کو آدھا یا 30 فی صد دوں گا اور اگر نہیں نکلا تو آپ کے پیسے ضا ئع ہوں گے یہ بھی قمار ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

 

ويكره اللعب بالنرد والشطرنج والأربعة عشر وهي لعب تستعمله اليهود لأنه قمار أو لعب وكل ذلك حرام (أما) ‌القمار فلقوله عز وجل {يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس} [المائدة: 90] وهو ‌القمار كذا روى ابن عباس وابن سيدنا عمر رضي الله عنهم وروي عن مجاهد وسعيد بن جبير والشعبي وغيرهم رضي الله عنهم أنهم قالوا الميسر ‌القمار كله حتى الجوز الذي يلعب به الصبيان وعن سيدنا علي رضي الله عنه أنه قال الشطرنج ميسر الأعاجم وعن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال «ما ألهاكم عن ذكر الله فهو ميسر»(بدائع الصنائع کتاب الاستحسان،ج:5،ص:127)

والجعل بالضم ما جعل للإنسان من شيء على فعل، وكذا الجعالة بالكسر والفتح (قوله المال) أي المراد به هنا المال المجعول شرطا لعتقه نهر (قوله أعتق عبده على مال) مثل أن يقول أنت حر على ألف درهم أو بألفدرهم، أو على أن تعطيني ألفا، أو على أن تؤدي إلي ألفا، أو على أن تجيئني بألف، أو على أن لي عليك ألفا أو على ألف تؤديها إلي، أو قال بعتك نفسك منك على كذا أو وهبت لك نفسك على أن تعوضني كذا ح عن البحر.(رد المحتار على الدرالمختار،باب العتق على جعل،ج:3،ص:674)

استعمال القرعة تعليق الاستحقاق بخروج القرعة وهو في معنى ‌القمار والقمار حرام.(فتح القدير،كتاب القسمة،ج:9،ص:440)

قال الله تعالى:{ولمن جاء به حمل بعير وأنا به زعيم}ذكر القاضي أن في هذه الآية دليلا على جواز ‌الجعالة وضمان الجعل قبل تمام العمل. اهـ

أن ‌القمار هو الذي يستوي فيه الجانبان في احتمال الغرامة.(تبيين الحقائق،مسائل شتى،ج:6،ص:227)


فتویٰ نمبر : 3404/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں