بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نیٹ ورک مارکیٹنگ کی ایک صورت


سوال

ایک واٹس ایپ گروپ ہے اس کی ایک میڈم ہے اب وہ اپنے گروپ میں ممبرز کو ایڈ کرتی ہے اور ان کے لئے دو پیکج ہیں جس میں سے ان کو ایک لینا پڑتا ہے ایک تو تین سو والا ، اور ایک پانچ سو والا ،یہ پیسے دینے کے بعد آپ گروپ میں ایڈ ہوجاتے ہیں اور آپ کا کام یہ ہے کہ آپ کو ڈیلی ایک اسائمنٹ بنانا ہوتا ہے جو میڈم آپ کو دے گی اس میں ہر روز اسائمنٹ کے ساتھ آپ کو اپنے دوستوں رشتے داروں کو دعوت دے کر اس کام میں شامل کروانا ہے کہ وہ بھی اوپر کی تفصیل کے مطابق شامل ہوجائیں اب ہر اسائمنٹ کے ساتھ آپ اپنے ایک دوست یا رشتے دار یا کسی کو بھی شامل کروائیں گے ۔ وہ اس شمولیت کی فیس اسی تفصیل پر دے گا لیکن وہ سیدھا آپ کو دے گا پھر اگر وہ تین سو والا پیکج لیتا ہے تو آپ کو اس میں سے 100 ملیں گے باقی دو سو اوپر دینے ہوں گے اور اگر وہ 500 والا لیتا ہے تو آپ کو 200 ملیں گے اس طرح آپ کمائیں گے اور اس کو انہوں نے سیلری کا نام دیا ہے اب اس طریقے کے مطابق یہ  کام کرنا کیسا ہے ؟ مکمل تفصیل بتادیں یاد رہے یہ نہ تو کوئی آن لائن ایپلیکیشن ہے نہ اس میں سوشل میڈیا پر پوسٹیں یا ایڈز دیکھنے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس گروپ کی حد تک ایک کام ہے اور اسی لئے اس کا بس یہی طریقہ کار ہے اور یہ طالبات بہت کررہی ہیں اسکول والی وغیرہ ؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ واٹس ایپ گروپ کا جو طریقہ کار بیان کیا گیا ہے وہ شرعاً درست نہیں ۔اس  میں حقیقی تجارت یا کاروبار  نہیں ہوتا  بلکہ زیادہ  سے زیادہ لوگوں سے پیسے بٹورنے کی غرض سے نیٹ ورکنگ کی بنیاد پراِسےبنایا گیا ہے اس میں جوئے اور سود کا عنصر پایا جاتا ہے اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔ 

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، ‌من ‌غش ‌فليس مني»(صحيح مسلم،كتاب الإيمان،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم:"من غشنا فليس منا"،ج:1،ص:99)

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌ضرر ‌ولا ‌ضرار»(سنن ابن ماجه،كتاب الأحكام،باب من بنى في حقه ما يضر بجاره،ج:2،ص:784)


فتویٰ نمبر : 5633/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں