بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

موبائل فون پربیوی کے طلاق کے الفاظ نہ سننے سے طلاق کا حکم


سوال

ایک آدمی نے بیوی کو پہلے سے دو طلاقیں رجعی  دی ہیں، اور پھربیوی کوموبائل فون پرکال کرکے کہا کہ” میں تجھے طلاق  دیتا ہوں“۔ تاہم بیوی نے ان الفاظ کو  نہیں سنا۔ سائل کہتا ہے کہ میں نے  ایک مفتی صاحب سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ اگر  بیوی نےطلاق کے  الفاظ نہ سنے ہوں تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔اب سوال یہ ہےکہ کیا طلاق  کے واقع ہونے کے لیے بیوی کےسننے کا اعتبار ہےیا نہیں؟

جواب

 شوہر کا بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔چاہے بیوی نے الفاظِ طلاق سنے ہوں  یا نہیں،بہرصورت طلاق واقع ہوجاتی ہے۔نیز اگر شوہر نے پہلے سے بیوی کو دو طلاقیں دی ہوں تو تیسری طلاق دینے کے ساتھ بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  اگر واقعی شوہر نے  بیوی کو پہلے سے دو طلاقِ رجعی دی ہوں اور  پھر شوہر نے موبائل فون پراپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ” میں  تجھےطلاق  دیتا ہوں “کہے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر تیسری طلاق  مغلظہ واقع ہوکر بیوی ہوکر حرام ہوگئی ہے۔اگرچہ بیوی نے طلاق کے الفاظ کو نہ سنا ہو۔

 

(وأما شرطه) ‌على ‌الخصوص ‌فشيئان (أحدهما) قيام القيد في المرأة نكاح أو عدة (والثاني) قيام حل محل النكاح حتى لو حرمت بالمصاهرة بعد الدخول بها حتى وجبت العدة فطلقها في العدة لم يقع لزوال الحل وإذا طلقها ثم راجعها يبقى الطلاق وإن كان لا يزيل الحل والقيد في الحال لأنه يزيلهما في المآل حتى انضم إليه ثنتان كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرائطه،ج:1، ص:348)

" ‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ". (الهداية،كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة، ج:2، ص:257)

 


فتویٰ نمبر : 6781/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں