بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غير مسلم ممالك سے دوائی علاج کے لیے منگوانا


سوال

ایک شخص بیرون  کفار کے ملک سے دوائی علاج کے لیے امپورٹ کرتاہے جو کہ انتہائی سخت بیمار ہے ،اور وہ دوائی پاکستان میں نہیں ملتی ،جبکہ اس  دوائی کے بارے میں حلال اور حرام کا کچھ پتہ نہیں ،اب اس دوائی کا استعمال کرنا مذکورہ شخص کے لیے کیسا ہے ؟

جواب

کفار کے ملک کی  ادویات میں شراب یا کسی اور حرام شے کا اختلاط یقین یا ظن غالب کے طور پر معلوم نہ ہو تو اس کا استعمال شرعا جائز ہے ،صرف شک کی بنیاد پر ایسی دوائیوں کا استعمال ناجائز نہیں ہوتا۔

 

فلا نحكم بنجاسته بالشك على الأصل المعهود إن ‌اليقين ‌لا ‌يزول بالشك.( بدائع الصنائع،فصل في بيان المقدار الذي يصير به المحل نجسا،ج:1،ص:73)


فتویٰ نمبر : 5619/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں