بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

تحریری طلاق دینا


سوال

ایک شخص کی آج سے تقریباًگیارہ سال پہلے شادی ہوئی،تاہم کچھ مدت کے بعد میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے شروع ہوئے،شوہر  نے اپنی طرف سےنباہ  کرنے کی کوشش کی لیکن نباہ نہ ہوسکا۔چنانچہ شوہر نے سٹامپ پیپرپر یہ الفاظ لکھے کہ ”من سائل اپنی جانب سے اپنی  بیوی مسماۃ۔۔۔۔کو طلاقِ ثلاثہ دے رہا ہوں“۔کیا مذکورہ الفاظ سے بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے اگر شوہر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں  بیک لفظ یا مختلف الفاظ کے ساتھ   تین طلاقیں دے دے  تو تین طلاقیں ہی  واقع ہوں گی۔ چنانچہ اس کے بعد بیوی مغلظہ ہوکرشوہرپر حرام ہوجاتی ہے،اور ان کا آپس میں ازدواجی تعلق ختم ہو جا تا ہے۔نیز طلاق جس طرح زبانی الفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے،اسی طرح خط وکتابت کے ذریعے اگر شوہر بیوی کو طلاق کے الفاظ لکھے تو اس سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقعی شوہر نے بیوی کو طلاق دینے کے لیے سٹامپ پیپر  پر طلاق کے مذکورہ الفاظ ”من سائل اپنی جانب سے اپنی  بیوی مسماۃ۔۔۔کو طلاقِ ثلاثہ دے رہا ہوں“لکھے ہوں تو اس  سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں۔لہذا  وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،اور  اب دونوں کے مابین ازدواجی تعلق قائم رکھنا شرعاً جائز نہیں۔

 

قال الليث: حدثني نافع، قال: ‌كان ‌ابن ‌عمر، ‌إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك».(صحيح البخاري، كتاب الطلاق،باب من قال لامرأته أنت علي حرام، ج:7، ص:43)

عن الأعمش قال ۔۔۔سمعت علي بن أبي طالب یقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتی تنکح زوجا غیره.(السنن الکبری للبیهقي،کتاب الخلع و الطلاق،باب من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك، ج:7، ص:555)

" ‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ". (الهداية،كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة، ج:2، ص:257)


فتویٰ نمبر : 6776/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں