بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

منافع کی شرح طے کئے بغیر عقد مضاربت کرنا


سوال

 ہمارے ایک دوست (ایمزون) پر آن لائن کام کرتے ہیں،جس کا طریقہ درج ذیل ہے۔وہ جدید موبائل ، کمپیوٹر کے آلات یورپ امریکہ برطانیہ میں فروخت کرتے ہیں۔اس کے ساتھ مختلف لوگ انوسمینٹ کرتے ہیں اورحاصل ہونے والے منافع کو وہ تمام شراکت داروں میں تقسیم کر دیتے ہیں ،منافع کی کوئی شرح متعین نہیں ہےمثلا ایک لاکھ کی سرمایہ کاری پرکبھی ساڑھے چار ہزار کبھی پانچ ہزار منافع کی شرح رہتی ہے ۔ کاروبار میں مالی طور پر ابھی تک کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ منافع کی شرح کم ضرور ہوئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کے کاروبار کو شراکت داروں  نے اپنی آ نکھوں سے ابھی  دیکھا نہیں ہے۔شرعا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے خریدوفروخت کے معاملے میں اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ جس چیز کی خریدوفروخت ہورہی ہو وہ  چیز شرعی اعتبار سے حلال ہو، نیز   وہ چیز معلو م ومتعین ہونے کے ساتھ ساتھ   عاقدین کے مابین معاملہ طے پاتے وقت بائع یعنی فروخت کنندہ کی ملکیت وقبضہ  میں ہو۔نیز مضاربت کی صورت میں فیصد کے اعتبار سے نفع طے کرنا بھی ضروری ہے، چنانچہ اگر کوئی ایمزونAMAZON))میں اپنا اکاونٹ کھول دےاور اپنی مملوکہ چیز جس کا کاروبار  بذات خود حلال ہو ،ان کے گودام (Warehouse) میں پہنچا دے اورپھر ایمزون کمپنی کے واسطے سے اسے بیچ کر کسٹمر تک  پہنچائے تو یہ معاملہ  شرعاً جائز ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق ایمزون پر کام کرنے والااگر درج بالا تفصیل کے مطابق جائز طریقے سے کام کرتا ہواور لوگوں سے سرمایہ لے کر اس کو کام میں لگائےتوشرعا یہ عقد مضاربت ہوگالہذا اس میں سرمایہ فراہم کرنے والے اور کام کرنے والے دونوں کے مابین نفع فیصد کے اعتبار سے تقسیم کرنا ضروری ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ یہ متعین نہیں ہے،اس لئے یہ معاملہ ناجائز ہے۔

 

عن حكيم بن حزام , قال: قلت: يا رسول الله , الرجل يطلب مني البيع وليس عندي أفأبيعه له؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تبع ما ليس عندك " (السنن الكبري للبيهقي ، كتاب البيوع، باب من قال لايجوز بيع الغائبة، ج:8 ص:95)

(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم۔ ( بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل واماالذي يرجع الي المعقود عليه، ج:5 ص: 14)

ویشترط ایضافي المضاربةان يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد ؛لان الربح هو المعقود عليه ،و جهالته توجب فساد العقد ۔(فتح القدير ،كتاب المضاربةج7ص421)


فتویٰ نمبر : 3445/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں