بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ادارے کےسربراہ کی بے احتیاطی کی وجہ سے ماتحت افسران کی تنخواہ پر اثر


سوال

بندہ سرکاری سکول میں استاد ہے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں 1۔سکول سربراہ وقت سے پہلے سکول کی چھٹی کراتا ہےہم بھی نہ چاہتے ہوئے اس کے ساتھ چھٹی کرتے ہیں کیا اس سے ہماری تنخواہ حرام ہوجاتی ہے؟ 2۔تفریح کا وقت 20 منٹ ہے وہ 40 منٹ کا وقت دیتا ہے جس سے ہمارے پیریڈز کا دورانیہ کم ہوجاتا ہے کیا اس سے ہماری تنخواہ پر اثر پڑتا ہے؟ 3۔اسمبلی کا وقت 10 منٹ ہے۔جبکہ ناظرہ 15 منٹ کا ہے وہ ناظرہ کے وقت میں بھی اسمبلی کراتا ہے ہم اس کے ساتھ اسمبلی میں کھڑے رہتے ہیں کیا اس سے تنخواہ پر اثر پڑتا ہے؟ 4۔سکول میں خالی پیریڈز بھی ہوتے ہیں حکومت کے ہدایات ہیں کہ ان میں نصابی کام( مثلا سبق کی تیاری وغیرہ )کیےجائیں کیا اس دوران گپ شپ لگانے یا آرام کرنے یا سونے یا وقت خالی گزارنےسے تنخواہ حرام ہوجاتی ہے؟ بندہ کوشش کرتا ہے کہ اپنی ڈیوٹی درست طریقے سے ادا کرے تاہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان امور کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟ 5۔ ہدایات ہیں کہ استاذ ہفتے میں کم از کم 30 پیریڈز لے گا اگر کوئی کم پیریڈ لے تو تنخواہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہےکہ سرکاری اداروں کے ملازمین اجیر خاص کے حکم میں ہوتے ہیں، اس لیے وہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں حاضر رہ کراپنی خدمات ادارہ کے سپرد کرنے  سے اجرت (تنخواہ)  کے مستحق ہوتےہیں، اگروہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں  حاضر نہیں ہوتے ہیں تو اس کے بقدر تنخواہ کےمستحق نہیں ہوتے ہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل  دیگر سٹاف کے ساتھ ملکر سربراہ کو سمجھانے کی کوشش کرے تاہم اگر اس سے معاملہ حل نہیں ہوتا تو پھر سائل کے لیے ضروری ہے کہ وہ سرکار کی طرف سے مقررہ وقت میں خود کو حاضررکھے ، اگر چہ سربراہ  اسکول وقت سے پہلے چھٹی کراتا ہو،اور اگر سربراہ کے وقت سے پہلے چھٹی کرنے کے ساتھ سائل بھی چھٹی کرکے چلا جاتا ہے تویہ جائز نہیں اور اس مقدار کے بقدر تنخواہ بھی واپس کرے گا،جہاں تک تفریح کا مسئلہ ہے تو اگر سربراہ ادارہ نے تفریح کا وقت اور شیڈول ایسا بنایا ہو کہ تفریح کے بعد اگلا پیریڈ کا دورانیہ شروع ہوتا ہے تو آپ کے ذمے صرف کلاس میں حاضری دینا لازم ہوگا ،اورخالی پیریڈز کے دورانیہ میں صرف اسکول سے متعلق کام  ،مطالعہ اور اسباق کی تیاری وغیرہ میں کرے ،تاکہ بچوں کا تعلیمی حق صحیح طور پر ادا ہو اور اس میں حق تلفی نہ ہویہ وقت ذاتی مشغولیت میں صرف کرنے سے اجتناب کرےاور سربراہ ادارے نے  جتنے پیریڈ لینے کا شیڈول بنایا ہے سائل کے ذمے  ان پیریڈ میں خود کو حاضر رکھنا لازم ہےاور اس میں کوتاہی نہ کرے، باقی سربراہ کے فعل سے سائل کی تنخواہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب تک خود کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کرے ۔

 

(والثاني) وهو ‌الأجير (‌الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.(فتح القدير على الهداية،كتاب الإجارات،ج:9،ص:140،دار الفكر)

ثم الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الثاني متى تجب الأجرة،ج:4،ص: 412،دار الفكر)


فتویٰ نمبر : 3426/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں