بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں مہتمم کو دفن کرنا


سوال

اگر مدرسہ میں مہتمم کو دفن کیاگیا تویہ جائزہے یا نہیں ؟نیز بصورت عدم جواز قبر سے نکالنا  ضروری ہے تاکہ دوسری جگہ دفن کیاجائے؟

جواب

واضح رہے کہ واقف  کی شرط شارع کی نص کی طرح ہوتی ہے؛لہذا واقف اپنی موقوفہ زمین کو جس مقصد کے لیے وقف کردے اس کو اسی مقصد میں استعمال کرنا ضروری ہے اور اس کے علاوہ میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر واقف نے ابتداءسے مدرسہ کا کوئی حصہ قبرستان کے لیے وقف کیا ہویا مدرسہ کے  مہتمم کو اختیار دیا ہو اور مہتمم مدرسہ   کی زمین میں سے کسی جگہ کو قبرستان کے لیے خاص کردے تو ایسی صورت میں وہاں پر مہتمم یا دوسری میت کی تدفین جائز ہوگی ۔تاہم اگر واقف نے زمین کو صرف مدرسہ بنانے کے لیے وقف کیاہوتو اس میں کسی کی تدفین جائز نہیں ؛لہذا   ایسی صورت میں  اس کو وہاں سے  نکال کر کسی عام قبرستان میں منتقل کردیا جائے یا قبر کی زمین کو برابر کردیا جائے؛ تاکہ واقف کا مقصد فوت نہ ہو اوروقف کو غیرمتعلقہ مصرف کے ساتھ  مشغول کرنا لازم نہ آئے۔

 

حفر قبرًا فدفن فيه آخر ميتًا فهو على ثلاثة أوجه: أن الأرض للحافر فله نبشه وله تسويته، وإن مباحةً فله قيمة حفره، وإن وقفًا فكذلك.(قوله: فله نبشه) أي نبشه لإخراج الميت (قوله: وله تسويته) أي بالأرض والزراعة فوقه، أشباه (قوله: وإن وقفًا فكذلك) أي ذكره في الأشباه بحثا فقال: وينبغي أن يكون الوقف من قبيل المباح، فيضمن قيمة الحفر ويحمل سكوته عن الضمان في صورة الوقف عليه اهـ أي على الضمان في المباح، وفي حاشية أبي السعود عن حاشية المقدسي، وهذا لو وقفت للدفن فلو على مسجد للزرع والغلة  فكالمملوكة تأمل.(ردالمحتار على الدر المختار، مطلب في لحوق الإجازة للإتلاف والأفعال في اللقطة،ج:6،ص:199)

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.(فتاوى الهندية،الباب الرابع عشر في المتفرقات،ج:2،ص:490)

إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.( ردالمحتار على الدر المختار، مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4،ص:366)


فتویٰ نمبر : 5603/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں