بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوسمارکا تالاب میں گرنا


سوال

سوسمار عام تالاب میں گر جائے اور زندہ نکل جائے تو اس پانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سوسمار (گوہ) حرام ہے اور حرام جانور جب نجس العین نہ ہو تو وہ اگر پانی میں گر کر پانی کو منہ لگائے بغیرزندہ نکل جائے تو اس سے پانی نجس نہیں ہوتا ، لیکن اگر پانی کو منہ لگایا ہو اور اس کا سور (جھوٹا) نجس ہو تو اس کی وجہ سے پانی نجس ہو جاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سوسمار چھوٹے تالاب میں گرا ہو اور اس کا منہ پانی میں لگا ہو تو پانی نجس ہو گا۔ 

 

قال الله تبارك وتعالى ﴿ويحرم عليهم الخبائث﴾ (الأعراف، الأية: 157)

‌والضب ‌من ‌الخبائث. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، كتاب الذبائح والصيود ، باب المأكول وغير المأكول من الحيوانات ۔ ج:5 ، ص:35 )

وإن أدخل فاه فيه فمعتبر بسؤره فإن ‌كان ‌سؤره ‌طاهرا فالماء طاهر وإن كان نجسا فنجس فينزح كله، وإن كان مشكوكا فمشكوك فينزح جميعه، وإن كان مكروها فمكروه فيستحب نزحها، وإن كان نجس العين كالخنزير فإنه يتنجس الماء وإن لم يدخل فاه والصحيح من سباع الوحش والطير لا يتنجس الماء إذا أخرج حيا ولم يدخل فاه في الصحيح هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية ، كتاب الطهارة ، الباب الثالث في المياه ، الفصل الأول فيما يجوز به التوضؤ ، ج:1 ، ص:19 )


فتویٰ نمبر : 9847/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں