بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شرابی کو ٹیکسی میں ہوٹل تک پہنچانا


سوال

ابو ظبی اور شارجہ میں بعض ایسے ہوٹل ہیں جو شراب بیچتے ہیں ۔تو ہم ٹیکسی ڈرائیور کو بعض اوقات یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ بعض وہ لوگ جو ان ہوٹلوں کو شراب پینے اور لینے کے لئے جاتے ہیں ہمیں وہ معلوم ہے کہ یہ اس ہوٹل میں شراب پینے کے لئے جاتا ہے ۔ وہ ہمارے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ جاتے ہیں اور ہم ان کولے کر ہوٹل تک پہنچا دیتے ہیں اور ہم ان سے کرایہ وصول کرتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کرایہ ان سے لینا ہمارے لئے جائز ہےیا نہیں ، اگر جائز نہیں ہے تو ہم اس کو نہیں بٹھائیں گے۔

جواب

واضح رہے کہ ٹیکسی چلانے والے کا کسی بھی سواری کو کرایہ پر لے جانا اجارہ ہے جو کہ شرعا جائز ہے خواہ وہ شخص کہیں بھی جا رہا ہو۔ اگر وہ جا کر شراب نوشی کرے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے ، لے جانے والا اس کا جواب دہ نہیں نہ ہی اس کی اجرت پر کوئی فرق پڑتا ہے ۔

 

وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ‌ولم ‌يلحق ‌المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. (الفتاوى الهنديه ، كتاب الإجارة ، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة ، ج:4 ، ص:450)


فتویٰ نمبر : 3427/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں