بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
ذکر بالجہرکی حقیقت
سوال
ذکر بالجہر کے بارے میں کچھ پوچھنا تھا کہ ہمارے ہاں ایک بڑے عالم و بزرگ اصلاحی اجتماع کے لیے تشریف لاتے ہیں اس اجتماع میں بیانات بھی ہوتے ہیں، خصوصًا ذکر بالجہر بھی ہوتا ہے،لیکن اسکو لازم نہیں سمجھتے صرف تربیت کیلئے کرتے ہيں ۔اوربعض لوگ اس کوبدعت سمجھتے ہیں،برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ ذکربالجہربدعت ہے کہ نہیں؟ اگر بدعت نہیں توذکر بالجہر کن صورتوں میں جائز اور کن میں ناجائز ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے سری طور پر ذکر کرنا زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہے۔ اس میں خشوع اور ریا سے حفاظت ہوتی ہے،تاہم اگر کوئی روحانی علاج کی خاطریاوساوس کو دفع کرنے اور اپنے قلب کو اللہ کی یاد کی طرف متوجہ کرنے کے لیے جہری ذکر کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ مندرجہ ذیل امور کا لحاظ رکھاجائے:
1۔نمازی یا دوسرے اعمال میں مصروف لوگوں کے لیے باعث تشویش نہ ہو۔
2۔کسی کی ایذاء رسانی کا سبب نہ بنے اور ریا کاری کا خوف نہ ہو۔
3۔جہر مفرط نہ ہو یعنی چیخ و پکار نہ ہو بلکہ متوسط آواز کے ساتھ ہو کہ صرف آس پاس کے لوگ سن سکیں۔
3۔جہر کو لازم نہ سمجھا جائے،اور نہ ہی جہری ذکر کرنے میں کسی خاص ہیئت کو مسنون ومستحب سمجھا جائے۔
قال الله تعالى :﴿وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ﴾(الأعراف:205)
قال العلامة آلوسي( رحمه الله تعالى) تحت هذه الأية: والمراد بالجهر رفع الصوت المفرط وبمادونه نوع آخر من الجهر. قال ابن عباس رضي الله تعالى عنهما: هو أن يسمع نفسه وقال الامام: المراد أن يقع الذكر متوسطا بين الجهر والمخافتة كما قال تعالى ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها.(روح المعاني،سورة الأعراف، الأية:205، ج:9،ص:154)
وقال تعالى: ﴿ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ﴾(الأعراف:55)
قال القاضي ثناء الله (رحمه الله تعالى) تحت هذه الأية: اعلم ان الذكر مطلقا عبادة سواء كان جهرا إذا لم يخالطه الرياء او سرا عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم يقول الله تعالى انا عند ظن عبدى بي وانا معه إذا ذكرنى فان ذكرنى فى نفسه ذكرته فى نفسى وان ذكرنى فى ملأ ذكرته فى ملأ خير منهم متفق عليه فان هذا الحديث يفيد ذكر الجهر والخفي كليهما...ثم أجمع العلماء على أن الذكر سرا هو الأفضل.(التفسير المظهري،سورة الأعراف،الأية:55،ج:3،ص:39)
(قوله ورفع صوت بذكر إلخ) أقول: اضطرب كلام صاحب البزازية في ذلك؛ فتارة قال: إنه حرام، وتارة قال إنه جائز. وفي الفتاوى الخيرية من الكراهية والاستحسان: جاء في الحديث به اقتضى طلب الجهر به نحو " وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم" رواه الشيخان. وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار، والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر والإخفاء بالقراءة ولا يعارض ذلك حديث "خير الذكر الخفي" لأنه حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر؛ فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل لأنه أكثر عملا ولتعدي فائدته إلى السامعين، ويوقظ قلب الذاكر فيجمع همه إلى الفكر، ويصرف سمعه إليه، ويطرد النوم، ويزيد النشاط.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:660)
وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:660)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں