بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

سولر سسٹم کے ذریعے حاصل ہونے والی زمین کی پیداوار میں نصف عشر کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہم نے پانی کا ایک بور(کنواں) کھود کر اس پر سولر سسٹم لگایا ہے، جس پر تقریبا دس لاکھ روپے خرچ آیا ہے، اب ہم اس کنویں سے فصل کو پانی دیتے ہیں۔اب  پوچھنا یہ ہے کہ اس فصل کے پیداوار میں عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟

جواب

واضح رہے کہ زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار میں عشر اور نصفِ عشر کا دارومدار زمین کی آب پاشی کے نظام ،یعنی سیرابی کے دوران پیش آنے والی محنت ومشقت اور خرچ کی نوعیت پر ہے ۔ چنانچہ اگر کسی زمین کو بارش یا قدرتی چشموں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو،تو اس کی پیداوار میں دسواں حصہ یعنی عشر واجب ہوگا۔ اور اگر کسی زمین کی سیرابی کے لیے محنت یاخرچ اٹھانا پڑے (جیسے ڈول کے ذریعے کنویں سے پانی نکالنا یا عصرِ حاضرمیں ٹیوب ویل وغیرہ کے ذریعے سے پانی حاصل کرنا) تو ایسی زمین کی پیداوار میں بیسواں حصہ یعنی نصفِ عشر واجب ہوگا ۔ نیز ڈول وغيره سے آبپاشی کی صورت میں نصف عشر كےواجب ہونے کی علت فقہائے کرام نے یہ بیان فرمائی کہ اس میں مؤنۃ و مشقت زیادہ ہے۔

صورت مسئولہ  کے مطابق جب زمین کی آب پاشی سولر سسٹم  کے ذریعےسے کی جاتی ہوتو چونکہ اس میں بھی مالی بوجھ اور خرچہ اٹھانا پڑتا ہےسولرسسٹم کے خریدنے اور اس کے فٹنگ پر کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے اور بعد میں بھی اس کی مرمت بیٹری وغیرہ دیگر اخراجات پیش آتے ہیں،لہذا مؤنۃ اور مشقت کی علت اس میں بھی موجود ہے۔چنانچہ اس سے سیراب کی جانے والی فصل میں نصف عشر لازم ہوگا۔

 

ثم العشر يجب فيما سقته السماء أو سقي سيحا فأما ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر وبه ورد الأثر عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «‌ما ‌سقته ‌السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية ففيه نصف العشر». (المبسوط للسرخسي، كتاب الزكاة،باب عشر الأرضيين، ج:3، ص:4)

(قوله: ونصفه في مسقى غرب ودالية) أي ‌ويجب ‌نصف ‌العشر ‌فيما ‌سقي ‌بآلة للحديث والغرب دلو عظيم والدالية دولاب عظيم تديره البقر. (البحرالرائق، كتاب الزكاة، باب العشر،ج:2، ص:256)

(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة، (قوله: لكثرة المؤنة) ‌علة ‌لوجوب ‌نصف ‌العشر فيما ذكر۔۔۔ لأن العلة في العدول عن العشر إلى نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة. (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:328)


فتویٰ نمبر : 9815/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں