بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

دکان اور گھر پر شفعہ کرنا


سوال

ایک بندے کا اپنا مارکیٹ ہے اس نے اپنے مارکیٹ سے ایک دکان فروخت کردی اب جس دکان کو بیچا ہے اس سے متصل دوسری دکان بیچ رہا ہے تو آیا اب پہلے والا مشتری اپنی  دکان کی وجہ سے شفعہ کر سکتا ہے یا نہیں  ؟اسی طرح ایک ٹاون ہے ایک گھر فروخت   کیا  کچھ دن بعد دوسرا فروخت کر رہا ہے تو پہلے والا مشتری اپنے متصل گھر پر شفعہ کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی غیر منقول شئی مکان،دکان  وغیرہ  کو فروخت کرے تو اس پر تین قسم کے آدمیوں کو ترتیب وار شفعہ کا حق حاصل ہو تا ہےاول اس کو جو نفسِ مبیع میں شریک ہو  ،پھر اس کو جو کہ حق  مبیع میں شریک ہو پھر اس کو جو کہ پڑوسی ہو۔ نفسِ مبیع میں شریک  کی موجودگی اور طلب پر  بقیہ دونوں محروم ہوں گےاسی طرح حق مبیع میں شریک کی موجودگی اور طلب پر پڑوسی محروم ہو گا اور اگر یہ دونوں نہ  ہوں یاطلبِ شفعہ نہ کریں  تو پڑوسی شفعہ کا حق دار ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مالک کا مارکیٹ میں اپنی  دکان  فروخت کرنےیاٹاؤن میں گھر فروخت کرنے پروہ خریدار مالک بن جاتا ہے لہذا وہ اس کی بنیاد پر شفعہ کرنے کا حق  رکھتا ہے۔

 

الشفعة مناسبته تملك مال الغير بغير رضاه ۔۔۔(وسببها اتصال ملك الشفيع بالمشترى) بشركة أو جوار. (وشرطها: أن يكون المحل عقارا)(الدر المختار شرح تنويرالابصار،ج:6،ص:217)

قال: "الشفعة واجبة للخليط في نفس المبيع ثم للخليط في حق المبيع كالشرب والطريق ثم للجار۔(الھدایة،ج:،ص:308)

ثم إن سبب الشفعة عند عامة المشايخ اتصال ملك الشفيع بملك البائع؛ لأن الشفعة إنما تجب لدفع ضرر الدخيل عن الأصيل وهو ضرر سوء المعاملة والمعاشرة، وإنما يتحقق هذا الضرر عند اتصال ملك الشفيع بالمبيع.)فتح القدير،ج:9،ص:369)


فتویٰ نمبر : 3401/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں