بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

کپڑوں پر لگی ودی کے ساتھ نماز پڑھنا


سوال

اگر کسی شخص کے کپڑوں پر ودی لگی ہو اور اس کو پتہ بھی ہو وہ ا س خیال پر اس کو چھوڑدے کہ بعد میں اس کو دھو لوں گا مگر اس سے دھونا بھول جائے اور نماز اس میں شروع کرلے اور دوران نماز اس کو یاد آجائے کہ میرے کپڑوں پر تو ودی لگی ہے اس دوران یہ شخص کیا کرے نماز کو توڑلے یا نماز پوری کرلے؟

جواب

واضح رہے کہ صحت نماز کے شرائط میں سے ایک شرط کپڑوں کا پاک ہونا ہے۔لہذا اگر نجاست غلیظہ (ودی وغیرہ)ایک درھم کی مقدار سے زیادہ کپڑوں پر موجود ہوتو اس کو  پاک کرنا ضروری ہے۔البتہ اگر نجاست غلیظہ  ایک درہم کی مقدار کے برابر یا اس سے کم ہوتو اس کےساتھ  پڑھی گئی نماز ادا ہوجاتی ہے۔ایک درہم کی مقدار مائع نجاست غلیظہ میں ہتھیلی کی گہرائی کے پھیلاؤ کے بقدرہے جو تقریباً5.94 مربع سینٹی میٹربنتا ہے

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق جوودی کپڑوں پر لگی ہو اگر ایک درہم کی مقدار سے زیادہ ہواور دوران نماز یاد آجائے تو نماز کو توڑناضروری ہے تاہم اگردرہم کی مقدارکے برابر یا درہم کی مقدار سے کم ہو  تو نماز کو توڑنا ضروری نہیں  اسی طرح اگردوران نماز یاد نہ آیا بعد میں یاد آیا تو دیکھا جائے گا اگر درہم کی مقدار سے زیادہ تھی تو نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا اگر درہم سے کم یا برابر تھی تو نماز کا اعادہ لازم نہیں۔اسی طرح پہلے سے علم ہو کہ کپڑوں پر نجاست لگی ہے  وہ نجاست اگرچہ درہم کی مقدارسے کم ہومگر اس کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے لہذا ایسی صورت میں کپڑوں کو پاک کرکے نماز پڑھنا چاہئے ۔

 

"النجاسة إن كانت غليظة وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات۔" (الفتاوی الھندیة، كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، الفصل الأول في الطهارة وستر العورة، ج:1، ص: 114، دارالفکر(

والصلاة مكروهة مع ما لا يمنع، حتى قيل لو علم قليل النجاسة عليه في الصلاة يرفضها ما لم يخف فوت الوقت أو الجماعة.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب الانجاس،ج:1،ص:317)

وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف (2) . هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطا وعن شمس الأئمة يعتبر في كل زمان بدرهمه والصحيح الأول. هكذا في السراج الوهاج ناقلا(والثاني المخففة) وعفي منها ما دون ربع الثوب. كذا في أكثر المتون اختلفوا في كيفية اعتبار الربع قيل المعتبر ربع طرف أصابته النجاسة كالذيل والكم والدخريص إن كان المصاب ثوبا وربع العضو المصاب كاليد والرجل إن كان بدنا وصححه صاحب التحفة والمحيط والبدائع والمجتبى والسراج الوهاج."(الفتاوی الھندیة، کتاب الطھارۃ،الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، ج:1 ، ص: 100، دارالفکر(


فتویٰ نمبر : 9822/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں