بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

نماز میں قرات کے دوران درمیان میں کچھ آیتیں چھوڑنا


سوال

اگرامام  دوران قرات کچھ آیتیں بھول جائے یعنی ایک سورت کی 6 آیتیں پڑھ کر آگے  آیتیں بھول جائے اور وہ درمیان میں 3 آیتوں کو چھوڑکر آگے سے تلاوت شروع کردے تو کیا اس سےسجدہ سہویا  نمازکو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہوگی یانہیں؟

جواب

اگر نماز میں دورانِ قرات کسی آیت پر وقف کرکے اس سے اگلی آیتیں بھول جائے اور آگے سے پڑھنا شروع کرےتو اس سےنمازپر کوئی اثر نہیں پڑتا  لیکن اگر وقف کئے بغیر غلط جگہ سے پڑھنا شروع کرے تو اس سے اگر معنی میں اس طرح تبدیلی  آجائے جس کا اعتقاد موجب کفر ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ورنہ نہیں۔

 

لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لا تفسد كما لو قرأ والعصر إن الإنسان ثم قال إن الأبرار لفي نعيم أو قرأ والتين إلى قوله وهذا البلد الأمين ووقف ثم قرأ لقد خلقنا الإنسان في كبد أو قرأ إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات ووقف ثم قال أولئك هم شر البرية لا تفسد أما إذا لم يقف ووصل إن لم يغير المعنى نحو أن يقرأ إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات فلهم جزاءالحسنى مكان قوله كانت لهم جنات الفردوس نزلا لا تفسد أما إذا غير المعنى بأن قرأ إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب إلى قوله خالدين فيها أولئك هم خير البرية تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح هكذا في الخلاصة۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الصلاة ،الفصل الخامس في زلة القاري ،الباب الرابع ج1ص80)


فتویٰ نمبر : 9819/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں