بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

میت کے رشتہ دار نہ ہونے کی صورت میں تقسیم جائیداد


سوال

ایک عورت  وفات ہوئی اور اس کے ورثا میں سے کوئی نہیں ہے، البتہ ورثا میں اس کے شوہر کے بھتیجے ہیں  تو جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص فوت  ہوجائےاور اس کا مال رہ جائے تواس کے ورثا جو موت کے وقت موجود ہوں ان کو میراث ملتا ہےاور اگر کوئی وارث موجود نہ ہو تو اگر اس نے سارے مال کی وصیت کسی کو کی ہو تو اس کو سارا مال  دیا جائےگا اور اگر وصیت بھی نہ کی ہو تو بیت المال میں دیا جائےگا۔تاہم بیت المال نہ ہونے یا اس کے نظام میں فساد کی صورت میں  اس کا مصرف فقراء ہوں گے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر مرحومہ خاتون کا کوئی وارث موجود نہ  ہو اور مرحومہ نے کسی کے لیے کل مال کی وصیت بھی نہ کی ہو تومرحومہ کا سارا ترکہ  فقراء پر صدقہ کیا جائےگا، شوہر کے بھتیجے مرحومہ کے وارث نہیں۔

 

والمستحقون ‌للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله: (فيبدأ بذوي الفروض) أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب:ثلاثة من الرجال، وسبعة من النساء، واثنان من التسبب وهما الزوجان (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد وجمعه للازدواج (النسبية) لانها أقوى (ثم بالمعتق) لو أنثى وهو العصبة السببية (ثم عصبته الذكور) لانه ليس للنساء من الولاء إلا ما اعتقن(ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم (ثم ذوي الارحام ثم بعدهم مولى الموالاة) كما مر في كتاب الولاء، وله الباقي بعد فرض أحد الزوجين.ذكره السيد (ثم المقر له بنسب) على غيره(لم يثبت) فلو ثبت بأن صدقه المقر عليه أو أقر بمثل إقراره أوشهد رجل آخر ثبت نسبه حقيقة وزاحم الورثة وإن رجع المقر، وكذا لو صدقه المقر له قبل رجوعه، وتمامه في شروح السراجية سيما روح الشروح، وقد لخصته فيما علقته عليها (ثم) بعدهم (الموصى له بما زاد على الثلث) ولوبالكل، وإنما قدم عليه المقر له لانه نوع قرابة، بخلاف الموصى له (ثم) يوضع (في بيت المال) لا إرثا بل فيئا للمسلمين.( الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الفرائض، ج:10، ص:498)


فتویٰ نمبر : 3500/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں