بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ہر جمعرات کو روزہ رکھنے کی نذرماننا


سوال

ایک عورت نے یہ کہا تھاکہ جب میں حاملہ ہو جاؤ ں تو میں ہر جمعرات کو روزہ رکھوں  گی لیکن پھر جب وہ حاملہ ہوگئی تو اس نے ایک جمعرات کوروزہ رکھا جس سے طبيعت خراب ہو گئی  تو شوہر نے اس کو روزہ رکھنے سے منع کیااور اب وہ  اور روزے نہیں رکھتی تو اب اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی نے یہ نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیاتو ہر جمعرات کو  روزہ رکھنا مجھ پر لازم ہےاور پھر وہ کام ہوجائے تو اس پر زندگی بھر  ہر جمعرات  کو روزہ رکھنا لازم  ہوجاتا ہےتاہم اگر کسی وجہ سے جمعرات کے دن روزہ نہ رکھ سکے تو کسی دوسرے دن اس کی قضا  ركهنالازم ہو گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق عورت کا یہ کہناکہ اگر میں حاملہ ہو جاؤں  تو میں ہر جمعرات کو روزہ رکھوں گی اور پھر وہ حاملہ گئی تو اس پر زندگی بھرہر جمعرات کو روزہ رکھناواجب  ہےتاہم اگرکسی وجہ سے  جمعرات کو روزہ نہ رکھ سکےتو دوسرے دن اس کی قضا کرنے سے ذمہ فارغ ہو جائے گالیکن اگر بڑھاپے کی وجہ سے  یا کسی  بیماری اور ضعف کی وجہ سے  نذر کے روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو تو اس صورت میں ہر جمعرات کے روزے  کا فدیہ لازم ہو گا اور اگر تنگ دستی کی بنا پر فدیہ دینے سے  بھی  قاصر ہو تو   توبہ واستغفارکرتی  رہے۔

 

إذا نذر ‌أن ‌يصوم ‌كل ‌خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط.ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:209)


فتویٰ نمبر : 9804/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں