بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ايک مصرف كا چنده دوسرے مصرف میں خرچ کرنا


سوال

ایک عالم کے انتظام میں دو مدارس  ہیں ، ایک بنین  اور ایک بنات کا ہے۔ بنات کے مدرسے میں کارپٹ کے لیے  عورتوں نے  چندہ جمع کیا ،اب کچھ رقم اضافی ہوگئی،اسی طرح  کتب حدیث  وجائے نماز ہدیہ کرتے ہیں ۔ چونکہ بنات کے مدرسے میں ان  اشیاء کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی  ،کیا ان اشیاء کو بنین کے مدرسے میں استعمال کرنا جائز  ہے یا نہیں ؟ نیز کیا  مدرسے کا چندہ  مسجد میں دیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جب کوئی شخص کسی نیک کام کے لیے چندہ دے تو جس کو چندہ دیا گیا ہے ،اس پر لازم ہے کہ اس کو صرف اسی مصرف میں خرچ کرے ،جہاں چندہ دینے والےنے  خرچ کرنے کا کہا ہو اور اگر چندہ وصول کرنے والے کے پاس وہ مصرف موجود نہ رہے تو چندہ دینے والے کی اجازت کے بعد دوسرے مصرف میں وہ چندہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور اگر  چندہ دینے والے تک رسائی ممکن نہ ہو تو اس کی منشا کی رعایت کرتے ہوئے دوسرے قریبی مصرف میں صرف کیا جاسکتا ہے ۔  

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی  شخص کسی متعین  مدرسہ کی ضرورت   کے لیے چندہ دے تو اسی میں صرف کرنا لازمی ہے تاہم اگر وہ  ضرورت  باقی نہ رہے  تو  دینے والے کی اجازت سے دوسری جگہ استعمال کرنا  جائز ہے۔ نیز بہتر یہ ہے کہ ایک وقف کا بچا ہوا مال اسی کے جنس  میں لگایا جائے  یعنی مدرسہ کا بچا ہوا پیسہ و سامان وغیرہ   دوسرے مدرسہ میں لگایا جائے  کیونکہ ایک مدرسہ دوسرے مدرسہ کی جنس سے ہے اور مسجد چونکہ دوسری جنس میں شمار ہوتی  ہے ۔اس لئے مسجد میں نہ لگایا  جائے  تاہم اگر رقم دینے والا اجازت دے تو پھر مسجد میں بھی  لگانا جائز ہے ۔

 

 "شرط الواقف يجب اتباعه لقولهم:شرط الواقف كنص الشارع أي: في وجوب العمل به وفي المفهوم والدلالة".(الأشباه والنظائر،الفن الثاني:الفوائد،كتاب الوقف،ص:163)

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن).قال ابن عابدين ؒ (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه… ".(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:352،351)

"مراعاة غرض الواقفين واجبة وصرح الأصوليون بأن العرف يصلح مخصصا ... وفي الأشباه في قاعدة العادة محكمة أن ألفاظ الواقفين تبنى على عرفهم كما في وقف فتح القدير.(كتاب الوقف،مطلب مراعاة غرض الواقفين واجبة:ج:6،ص:683)

‌حوض ‌في ‌محلة خرب فصار بحيث لا تمكن عمارته واستغنى أهل المحلة عنه إن كان يعرف واقفه يكون له إن كان حيا وإلى ورثته إن كان ميتا، وإن كان لا يعرف واقفه فهو كاللقطة في أيديهم يتصدقون به على فقير ثم يبيعه الفقير فينتفع بالثمن.(الفتاوى الهندية،كتاب الوفق،الباب الثالث عشر،ج:2،ص:479)

"شرط ‌أن ‌يتصدق ‌بفاضل ‌الغلة على من يسأل في مسجد كذا كل يوم لم يراع شرطه، فللقيم التصدق على سائل غير ذلك المسجد أو خارج المسجد، أو على من لا يسأل".(غمزعيون البصائرفي شرح الأشباه والنظائر،كتاب الوقف،ج:2،ص:230) 


فتویٰ نمبر : 5602/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں