بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

كپڑے كے كاروبار سے حاصل ہونے والی کمائی کا حکم


سوال

میرا ایک کپڑےکا شوروم ہے جس میں کچھ گرلز بھی کپڑےفروخت کرتی ہیں جن سےمرد اور عورت  سب کا سامنا ہوتا ہے ، تو کیا اس صورت میں میری کمائی جائز  ہے یا نہیں؟ میں بہت کشمکش کا شکار ہوں ،مجھے کسی نے کہا ہے کہ لڑکیوں کا بغیر پردے کے سامنے آنا حرام ہے، تو اس میں حرام کی آمیزش ہے ۔ لہذا آپ کی ساری کمائی حرام ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ کپڑے کی تجارت اور خرید ورفروخت  فی نفسہ حلال اور جائزکا روبار ہے ، اس لیے اس کی کمائی حلال ہے ،تاہم ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ  اپنے کاروبار میں ہر زاویہ سےاللہ تعالی  کے احکام کو بجالانے کا اہتمام کرے ۔

 صورت مسئولہ  میں سائل اگر کپڑے کے شوروم میں خریدوفروخت کے شرعی احکام کی پاسداری کرتا ہو تو اس کے لیے اس کا نفع  حلال ہوگا، محض دکان میں خواتین کے کا م کرنے سے نفع حرام نہ ہوگا ، تاہم سائل پر لازم ہے کہ اپنی وسعت کے مطابق کام کرنے والی خواتین پر پردہ اور دیگر شرعی احکام کی پاسداری کو لازم کردے ،ورنہ متبادل مردوں کو ملازم رکھے ،بصورت دیگر سائل پر بھی اپنی مسئولیت کی بقدر گناہ کا بوجھ پڑےگا،لیکن اس سے کمائی حرام نہ ہوگی ۔

 

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (ألا ‌كلكم ‌راع وكلكم مسؤول عن رعيته، فالإمام الذي على الناس راع وهو مسؤول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته وهو مسؤول عن رعيته، والمرأة راعية على أهل بيت زوجها وولده وهي مسؤولة عنهم، وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسؤول عنه، ألا فكلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته).( صحيح البخاري،باب: قول الله تعالى: {أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم}،ج:6،ص:2611،رقم الحديث،6719)

‌ما ‌قامت ‌المعصية بعينه يكره بيعه تحريما، وإلا فتنزيها.( رد المحتار، على الدر المختار،باب البغاة،ج:4،ص:268)

‌لا ‌يكره ‌بيع ‌الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعماله المحظور.( : تبيين الحقائق،كتاب اللقيط،ج:3،ص:297)


فتویٰ نمبر : 5606/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں