بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ کا مطالبہ کرنا
سوال
ایک مدرسہ میں قاری پڑھاتے تھے۔اب اس کی چھٹی کردی گئی ہے۔لیکن اب قاری صاحب کہتے ہیں کہ باقی جو ماہ رہتے ہیں اس سال میں ان کی تنخواہ مجھے دیں اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ باقی ماہ کی تنخواہ لینا قاری صاحب کے لیے جائزہے یا نہیں؟
جواب
عام طورپر مدارس دینیہ میں مہتمم اور مدرس کے مابین طے ہونےوالاعقد عقدمسانہہ ہوتاہے یعنی سال بھر کے لیے تدریس کا عقد طے پاتا ہے چنانچہ کسی عاقد کو بلاعذرِشرعی سال پوراہونے سے قبل عقد فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔البتہ اگرمدرس کسی ایسی کوتاہی کامرتکب ہوجس کی وجہ سے مہتمم کےلیے عقد فسخ کرنا ناگزیرہوتو اسے عقدفسخ کرنے کااختیارہوتاہے،اسی طرح اگر خود مدرس کسی مجبوری کی بنا پر عقد برقرارنہ رکھ سکے تو وہ بھی عقد فسخ کرسکتاہے۔ان دونوں صورتوں میں عقد فسخ ہونے کےبعد مدرس صرف گزرے ہوئے ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوتاہے،پورے سال کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوتا۔تاہم اگر مدرس میں کوئی کوتاہی نہ ہوتو پھر سال کے درمیان میں اس کو فارغ کرنا جائز نہیں اور وہ بقیہ مہینوں کی تنخواہ کا مستحق بنتاہے۔
إذا استأجر أستاذا ليعلمه هذا العمل في هذه السنة فمضى نصف السنة فلم يعلمه شيئا فللمستأجر أن يفسخ ...وفي التجريد لو آجر نفسه في عمل أو صناعة ثم بدا له أن يترك العمل لم يكن له ذلك، وإن كان ذلك العمل ليس من عمله وهو مما يعاب به كان له الفسخ كذا في الخلاصة وهكذا في المحيط..(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب التاسع عشر في فَسْخِ الْإِجَارَةِ بِالْعُذْرِ ...ج4ص499(
الإجارة بعد ما انعقدت صحيحة لا يسوغ للآجر فسخها.(دررالحكام،كتاب الإجارة، المادة:441،ج:2،ص:480)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں