بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سونے کو نفع کی نیت سے خریدنا


سوال

50تولہ سونا خرید کر اس نیت سے رکھنا کہ مہنگا ہونے کی صورت میں فروخت کرو نگا یہ جائز ہے یا ناجائز ؟اس بارے میں راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے   ذخیرہ اندوزی صرف اس صورت میں ناجائز ہے ،جب اس کی وجہ سے لوگوں کو ضرر پہنچے ،اگر ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے کوئی ضرر نہ پہنچے تواس کی گنجا ئش ہے۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگر سونےکو خریدکرنفع کمانے کی نیت سے رکھاہو اور اس کی وجہ سے ملکی معیشت کو ضرر نہ پہنچےتو اس کی اجازت ہے ۔

 

(‌ويكره ‌الاحتكار في أقوات الآدميين) كالبر ونحوه (والبهائم) كالشعير والتبن (ببلد يضر بأهله) لأنه تعلق به حق العامة قيد بقوله يضر بأهله؛ لأنه لو كان المصر كبيرا لا يضر بأهله فليس بمحتكر لأنه حبس ملكه ولا ضرر فيه لغيره.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،ج:2،ص:547)

(‌ويكره ‌الاحتكار، والتلقي في الموضع الذي يضر ذلك بأهله، ولا نرى به بأسا في موضع لا يضر ذلك بأهله).وذلك لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام في "النهي عن الحكرة، وعن تلقي الركبان".وهذا محمول على حال يضر فيها ذلك بأهله.وإذا لم يضر بأهله: فلا حق لأحد فيه، ولا يكره، لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: "دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض".فأباح الربح في ذلك، والبيع بما يريد من الثمن إذا لم يضر بأهل البلد.( شرح مختصر الطحاوي،ج:8،ص:546)


فتویٰ نمبر : 3402/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں