بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

والدين كو اچھے ناموں سے پكارنا


سوال

 دور حاضر میں بچوں کی تربیت کے دوران والدین  کو پکارنے کے لیے  مختلف نام سکھاتے ہیں، جیسے والد کو پکارنے کیلئے پاپا، بابا، یا دوسرے نام، اور ماں کو پکارنے کیلئے، امی، ممی یا دوسرے نام، تو سوال یہ ہے کہ اسلامی تربیت کی خاطر اپنی اولاد کو کس طرح کے نام سکھانے چاہیئے، والد، والدہ، دادا، دادی، بھائی بہن وغیرہ سب کیلئے؟

جواب

واضح رہے کہ اپنے بڑوں کو پکارنے کے لیے  تعظیم کے الفاظ استعمال کرنا اسلامی اداب كا حصہ ہے، تاہم اس کے لیے کوئی مخصوص الفاظ متعین نہیں بلکہ اس کو عرف پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ عرف میں والدین یا دادا دادی کے لیے جو بھی مناسب الفاظ استعمال ہوتے ہوں ، ان کا استعمال شرعا جائز ہے البتہ جن الفاظ میں  کفار یا فساق کے ساتھ مشابہت آتی ہو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 

(‌ويكره ‌أن ‌يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة زوجها باسمه) اهـ بلفظه.(قوله ‌ويكره ‌أن ‌يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم ك۔يا سيدي ونحوه لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية، لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه.( رد المحتار، على الدر المختار،كتاب الحظر ولاباحة،ج:6،ص:418)


فتویٰ نمبر : 5601/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں