بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سٹوڈنٹ کا اپنی مرضی سے اکیڈمی چھوڑکر استاد سے سبق پڑھنا


سوال

میں ایک آن لائن قران اکیڈمی میں پڑھاتا ہوں اگر مجھے کوئی سٹوڈنٹ کہتا ہے کہ میں پرسنلی آپ سے پڑھنا چاہتا ہوں۔اور میں اس سے کہتا ہوں کہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ میرے پاس پڑھیں یا نہ پڑھیں  میں آپ کو اس بات کی دعوت نہیں دیتا کہ آپ اکیڈمی سے ہٹ کر میرے پاس پڑھیں۔اگر وہ اپنی مرضی سے اکیڈمی سے ہٹ کر میرے پاس آ کر پڑھتا ہے تو کیا میرے لیے وہ پیسے جائز ہیں یا نہیں؟

جواب

فقہاےکرام کی تصریحات کےمطابق اگردویادو سےزیادہ افراد کےمابین معلوم منفعت کےبدلےمعلوم مدت تک معلوم اجرت پرمعاملہ طےہوجائےتوشرعایہ جائزہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر سٹوڈنٹ اپنی مرضی سے استاد کے ساتھ اکیڈمی سے ہٹ کر سبق پڑھتاہو  تو ایسی صورت میں استاد کےلیے اجرت لینا جائزہے تاہم اگراکیڈمی کی طرف سے اکیڈمی کے سٹوڈنٹ کو پرسنل میں پڑھانا ممنوع ہو تو اس صورت  میں یہ اکیڈمی کے ساتھ خیانت ہوگی جو کہ جائزنہیں۔

 

الإجارة... في اصطلاح الفقهاء بمعنى بيع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم.(شرح المجلة، لمحمدخالدالأتاسي، كتاب الإجارات، المقدمة، المادة:405، ص:472، المكتبة الحبيبية(

إنها نوعان: نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط.  (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الأول:في بيان تفسيرهاوركنها...، ج:4، ص:411، دارلفكر(

قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهورالتواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:9، ص:76، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 3391/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں