بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عقدِ فاسد میں مبیع بیچنے کے بعد واپسی کا مطالبہ کرنا


سوال

زید نے کچھ مدت پہلے سوا تین گرام سونا  تقریباً20000 روپے میں  کسی زرگر سے خریدا اور کہا کہ  کچھ دنوں بعد پیسے دونگا لیکن نہ دے سکا اور فوت ہوگیا ۔ اب تین سال بعد موصوف کا بیٹا زرگر کے پاس ادائیگی کیلئے جاتاہے تو زرگر کہتا ہے اب ریٹ بڑھ گیا ہے مجھے میرا سونا دو یا 50000 روپے دو ۔کیا زرگر کا مطالبہ درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  خرید و فروخت کے معاملہ میں جب ثمن کا ادھار ہونا متعین ہوجائے، تو اس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص مدت متعین کرنا لازم ہوتا ہے، چنانچہ اگر کوئی مدت متعین نہ کی جائے یا مجہول مدت متعین کی جائے تو بیع فاسد ہوگی اور بیع فاسد کا حکم یہ ہے کہ بائع اور مشتری دونوں پر اس کو فسخ کرنا لازم ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ عقد میں  غیر معین مدت تک قیمت کی ادائیگی مؤخر کرنے کی وجہ سے یہ بیع فاسد ہے ۔اس لئے اگر خریدار کےورثاکے پاس مبیع موجود ہو تو بائع کابیع فسخ کرکے مبیع واپس کرنے کا مطالبہ درست ہے البتہ بیس ہزار کی بجائے پچاس ہزار کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

 

وأما شرائط الصحة فعامة وخاصة...فإن الفاسد عندنا منعقد نافذ إذا اتصل به القبض ...وأما الخاصة فمنها معلومية الأجل في البيع بثمن مؤجل فيفسد إن كان مجهولا. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الأول، في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3،ص:6)

(و) يجب (على كل واحد منهمافسخه قبل القبض) ويكون امتناعا عنه ابن الملك (أو بعده ما دام) المبيع بحاله جوهرة (في يد المشتري إعداما للفساد) ؛ لأنه معصية فيجب رفعها بحر.(رد المحتار على الدر المختار،کتاب البیوع،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:91)

(ولا يبطل حق الفسخ بموت أحدهما) فيحلفه الوارث،به يفتى ...إذا مات المشتري فاسدا: وفي الخلاصة والبزازية: ولو مات المشتري فالبائع أحق من سائر الغرماء بماليته، فإن زاد شيء فهو للغرماء.ومعناه أنه لو اشترى عبدا فاسدا وتقابضا ثم مات المشتري وعليه ديون وفسخ البائع البيع مع الورثة فالبائع أحق بمالية العبد وهي ما قبضه من المشتري حتى يسترد العبد المبيع، كما لو مات البائع فإن كانت قيمة العبد أكثر مما قبض فالزائد للغرماء، هذا ما ظهر لي فتأمله (رد المحتار على الدر المختار،باب البيع الفاسد،ج:5،ص:95،96)


فتویٰ نمبر : 3398/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں