بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ایسی نذرمانناجس کوپوری کرنے کی طاقت نہ ہو


سوال

بسا اوقات لوگ  ایسی نذر مان لیتے ہیں کہ جس سے وہ عاجز آجاتے ہیں جیسے کہ کسی نے نذر مان لی کہ اگر میرے بیٹے کو نوکری مل گئی تو میں پوری زندگی ہر ماہ 10 روزے رکھوں گا یا کسی نے یوٹیوب چینل کھولا اور یہ نذر مان لی کہ میرے جتنے سبسکرائبرز (subscribers) ہونگے اتنی تعداد میں دن میں رکعات پڑھوں گا، اب سبسکرائبرز 1000 ہو گئے تو اب وہ نذر پوری کرنے سے عاجز ہے (نیز بسا اوقات سبسکرائبرز 10 ہزار اور لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں)تو ایسی نذر کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص نذر کوکسی کام کے ساتھ مشروط کرے تو شرط کے موجود ہونے کے ساتھ نذر کی ادائیگی واجب ہوگی بشرط یہ کہ منذور(جس چیز کی نذر مانی ہو)عبادت مقصود ہ ہو اور اس کی  جنس سے کوئی فرض یا واجب ہو ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی نے  یہ قسم کھائی کہ   اگر میرے بیٹے کو نوکری مل گئی تو میں پوری زندگی ہر ماہ 10 روزے رکھوں گا یا کسی نے یوٹیوب چینل کھولا اور یہ نذر مان لی کہ میرے جتنے سبسکرائبرز (subscribers) ہوں گے اتنی تعداد میں دن میں رکعات پڑھوں گا، تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں نذر کے مطابق ہر ماہ دس روزے اور جتنے سبسکرائبرز (subscribers) ہونگے اتنی تعداد میں دن میں رکعات پڑھنا پڑھےگا، جب تک روزہ اور نماز کی طاقت   ہوگی ،تب تک  روزہ اور نماز ہی واجب ہے ۔تاہم اگر  بیماری یا بڑھاپےکی وجہ روزہ اور نماز پرقادر نہ  ہو،  تو ہر روزےکے بدلے اور ہر دو رکعت نماز کے بدلہ ایک  فدیہ ادا کرےگا لیکن اگر غربت کی وجہ سے  فدیہ ادا کرنے پر  بھی قادر نہ ہو تو پھر اللہ تعالی سے بخشش مانگتارہے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو معاف فرمائیں گے۔

 

إذا نذر أن يصوم كل خميس يأتي عليه فأفطر خميسا واحدا فعليه قضاؤه كذا في المحيط ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم۔(الفتاوی الهندية،کتاب الصوم،الباب السادس في النذر،ج:1،ص:272)

لله علي أن أصلي لزمه ركعتان وكذا إن قال: أصلي صلاة (الفتاوی الهندية،كتاب الصوم،ج:3،ص:99 )

ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر(الدرالمختار مع ردالمحتار،باب قضاء الفوات ج:2،ص:72)


فتویٰ نمبر : 9803/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں