بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

طلاقِ معلق سے رجوع كرنا


سوال

بسا اوقات  لوگ ایسی تعلیق کر لیتے ہیں جس کو پورا کریں تو طلاق ہو جائے گی اور اگر نہ پورا کریں تو رجوع نہیں ہے جیسے کسی شوہر نے اپنی بیوی سے جھگڑے میں کہا کہ اگر تم نے اپنے والد یا بیٹے کے گھر میں قدم رکھا تو تمہیں طلاق ۔ کچھ دن بعد جھگڑا ختم ہو جاتا ہے تو اب وہ بیوی پھنس گئی ہے کہ والد یا بیٹے کے گھر قدم نہیں رکھ سکتی ورنہ طلاق ہو جائے گی۔ تو ان حالات میں کیا اس طرح تعلیق میں رجوع کی یا کچھ تخفیف پیدا کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہےکہ اگر طلاق کو کسی کام کے ساتھ معلق کیا جائے تو متعلقہ شرط کے موجودہونے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی،اور شوہر کا طلاق معلق کرنے کے بعد پھر اس تعلیق طلاق سے رجوع معتبر نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر کسی نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے ہوں " اگر تم نے اپنے والد یا بیٹے کے گھر میں قدم رکھا تو تمہیں طلاق "تو اس کے بعد اگر عورت والد يابیٹے کے گھر جائے گی تو ایک طلاق واقع  ہوگی۔اس کے بعد عدت ختم ہونے تک رجوع کرنے کا حق شوہر کے پاس ہوگا البتہ تعلیق طلاق سے رجوع ممکن نہیں۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)

ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك(الفتاوى الهندية،الباب السادس عشر في الإقرار بالنكاح،ج:4،ص:209)


فتویٰ نمبر : 6761/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں