بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 

ایسی جگہ سونا جہاں نماز کے لیے جگانے کا انتظام نہ ہواور مقفل جگہ میں تیمم کاحکم


سوال

ایک ادارہ کا قانون یہ ہےکہ فجر کی نماز کے لیے آدھا گھنٹہ یا بیس منٹ پہلے طلباء کو جگاتےہیں لیکن بعض طلباء کرام چھت کے اوپر سوتے  ہیں اور نماز سے دس منٹ پہلے اوپر چھت کا دروازہ بند کردیا جاتاہے،جو طلباء کرام چھت کے اوپر رہ جاتے ہیں تو ان سے فجر کی نماز رہ جاتی ہے ؛کیونکہ چھت کادروازہ نماز کے ایک دو گھنٹے بعد کھلتاہے،لہذا  اس صورت میں فوت نمازوں کا  ذمہ دار یہ طلباء ہوں گے یاادارہ ؟ نیز اگر ایسی حالت میں تیمم کرکے نماز پڑھی جائے تو اس نماز کااعادہ لازم ہوگایانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہےقرآن كريم میں  نماز میں کوتاہی یا سستی کرنے والوں کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے ۔ اور اس کو نفاق کی علامت قراردیاہے ،اس لیے ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ نماز کو پورےاہتمام سے ادا کرے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا سستی نہ کرے۔

صورت مسئولہ میں اگر طلباء کو اس بات کا علم ہو کہ نماز سےدس 10منٹ پہلے اوپر چھت کادروازہ بند ہوجاتاہے توان پرلازم ہےکہ دروازہ بند ہونے سے پہلے جاگ کر وہاں سے نکلیں۔ اور اگر دروازہ بند ہونے سے پہلے جاگنے کا یقین نہ ہوتو چھت پر نہ سوئیں،ورنہ نماز رہ جانے کی صورت میں وہ گناہ گار ہوں گے ،نیز ادارہ والوں کو بھی چاہیے کہ وہ دروازہ بند کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ اگر کوئی طالب علم وہاں پر موجود ہو تو اس کو نماز کے لیے جگالیں۔

ایسی صورت میں اگر  کوئی طالب علم اوپر رہ جائے اور پانی مل جانے کی کوئی صورت نہ بنے، تو تیمم کرکے نماز پڑھے ليكن بعد میں  وضو كركے  نماز کااعادہ کرےگا۔

 

قال الله تعالى: ﴿ إنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إلَّا قَلِيلًا ﴾قال ابن العربي: يَعْنِي مُتَكَاسِلِينَ مُتَثَاقِلِينَ ، لَا يَنْشَطُونَ لِفِعْلِهَا ، وَلَا يَفْرَحُونَ لَهَا.(أحكام القرآن،لإبن العربي،سورة النساء،ج:2،ص:498)

عَنْ أبي قَتَادَةَ قال: "ذَكَرُوا لِلنّبيّ صلى الله عليه وسلم نَوْمَهُمْ عَنِ الصّلاَةِ"؟فَقَالَ: إِنّهُ لَيْسَ فِي النّوْمِ تَفْرِيط، إِنّمَا التّفْرِيطُ فِي اليَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً أَوْ نَامَ عنها فَلْيُصَلّهَا إذَا ذَكَرَهَا.. قال الشوكاني: ظاهر الحديث أنه لا تفريط في النوم سواء كان قبل دخول وقت الصلاة أو بعده قبل تضييقه، وقيل إنه إذا تعمد النوم قبل تضييق الوقت واتخذ ذلك ذريعة إلى ترك الصلاة لغلبة ظنه أنه لا يستيقظ إلا وقد خرج الوقت كان آثماً، والظاهر أنه لا إثم عليه بالنظر إلى النوم لأن فعله في وقت يباح فعله فيشمله الحديث. وأما إذا نظر إلى التسبب به للترك فلا إشكال في العصيان بذلك، ولا شك في إثم من نام بعد تضييق الوقت لتعلق الخطاب به والنوم مانع من الامتثال والواجب إزالة المانع انتهى."(تحفة الأخوذي،باب ما جاء في النوم عن الصلوة،ج:2،ص:313)

 قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا سمر بعد الصلاة» يعني العشاء الأخيرة (إلا لأحد رجلين: مصل أو مسافر) وفي رواية (أو عرس) . اه. وقال الطحاوي: إنما كره ‌النوم قبلها لمن خشي عليه فوت وقتها أو فوت ‌الجماعة فيها، وأما من وكل نفسه إلى من يوقظه فيباح له ‌النوم.(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الصلوة،ج:1۔ص:368)

وفي الخلاصة وفتاوى قاضي خان وغيرهما الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج وكذا لو قال لعبده إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس.(البحرالرائق،شرائط التيمم،ج:1،ص:149)

الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج وكذا لو قال لعبده إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس؛ لأن طهارة التيمم لم تظهر في منع وجوب الإعادة وفي التجنيس رجل أراد أن يتوضأ فمنعه إنسان عن أن يتوضأ بوعيد قيل ينبغي أن يتيمم ويصلي ثم يعيد الصلاة بعد ما زال عنه؛ لأن هذا عذر جاء من قبل العباد فلا يسقط فرض الوضوء عنه .(البحراالرائق،شرائط التيمم،ج:1،ص:149)

المحبوس في المصر في مكان طاهر يتيمم، ويصلي، ثم يعيد إذا خرج وروى الحسن عن أبي حنيفة أنه لا يصلي، وهو قول زفر

وروي عن أبي يوسف أنه لا يعيد الصلاة وجه رواية أبي يوسف أنه عجز عن استعمال الماء حقيقة بسبب الحبس، فأشبه العجز بسبب المرض، ونحوه، فصار الماء عدما معنى في حقه، فصار مخاطبا بالصلاة بالتيمم، فالقدرة بعد ذلك لا تبطل الصلاة المؤداة كما في سائر المواضع، وكما في المحبوس في السفر، وجه رواية الحسن أنه ليس بعادم للماء حقيقة، وحكما أما، الحقيقة فظاهرة.وأما الحكم فلأن الحبس إن كان بحق فهو قادر على إزالته بإيصال الحق إلى المستحق، وإن كان بغير حق فالظلم لا يدوم، في دار الإسلام بل يرفع، فلا يتحقق العجز، فلا يكون التراب طهورا في حقه.(البدائع الصنائع،فصل في شرائط التيمم،ج:1،ص:50)


فتویٰ نمبر : 9805/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں