بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو غصے کی حالت میں تین بار "طلاق، طلاق، طلاق " کہنے کا حکم


سوال

ہم کراچی اپنے رشتہ دار کے پاس گئے تھے کہ ہمارے (میاں بیوی کے) درمیان اس بات پر بحث ہوئی کہ میں کہتا رہا کہ کل صبح واپس جائیں گے جب کہ میری بیوی بضد تھی کہ نہیں آج رات ہی واپس جائیں گے۔ میں نے دو تین تھپڑ بھی رسید کیے لیکن جب وہ اپنے ارادے سے باز نہ آئی تو میں نےاسے کہا کہ طلاق، طلاق، طلاق۔ پھر اس کے بعد تین دن ہم کراچی میں رہے اور پھر گھر آکر پندرہ (15) دن تک اپنے گھر میں میاں بیوی کی طرح رہے اور اس کے بعد میں UAEآگیا۔ اب بھی جب میں گھر کال کرتا ہوں تو ہم خوشی خوشی باتیں کرتے ہیں اور ایسا محسوس بھی نہیں کرتے کہ ہمارے درمیان کچھ ہوا ہے۔کیا اس مسئلے میں طلاق واقع ہوئی ہے یانہیں؟ اور ابھی ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

جواب

اپنی بیوی سےطلاق کے صریح الفاظ تین مرتبہ کہنے سے رشتہ نکاح مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے اور بیوی شوہر پر حرام ہوجاتی ہے۔ عدت گزرنے کے بعد اگر وہ عورت اپنی مرضی واختیار سےکسی دوسرے شخص سے شادی کرے اوران کے مابین ازدواجی تعلق بھی قائم ہوجائے ، اور پھر وہ دوسرا شوہر اس کو طلاق دے یا فوت ہوجائے تو پھر عدت گزرنے کے بعد اگر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ سائل نے غصہ کی حالت میں بیوی کے سامنےاسے تین بار "طلاق، طلاق، طلاق" کے الفاظ کہے ہیں، اس لیے طلاق مغلظ واقع ہوکر بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے، اب ان کو چاہئے کہ فورا علیحدگی اختیار کریں، ان کے لیے میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھا رہنا جائز نہیں ۔

 

قال الله تعالى: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ﴾  (البقرة، الآية:230)

قوله تعالى: ﴿فإن ‌طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾ منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره. (أحكام القرآن للجصاص، ج:1، ص:472، دار الكتب العلمية، بيروت)

ولا يلزم ‌كون ‌الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته... فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا. (رد المحتار على الدر المختار، ج:3، ص:248، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 6765/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں