بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرنسی کے تبادلہ کا مسئلہ


سوال

عوام میں یہ بات مشہور ہوئی ہے کہ حکومت کی طرف سے 5000 کا نوٹ بند کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تاجروں کے درمیان یہ مسئلہ درپیش ہے کہ  5000 ہزار کا نوٹ صراف کے پاس لیجا کر تبدیل کرتے ہیں، صراف ان سے 5000 میں سے 200 روپے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں جبکہ 4800 روپے تاجر کو دے دیتا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ  جب کوئی گاہک تاجر کے پاس 5000 کا نوٹ لاتا ہے اور 2500 کا مثلاسودا خریدتا ہےتو تاجر مبیع کی اصل قیمت کے علاوہ 200 روپے مزید ملاکر کل 2700 روپے گاہک سے لے لیتا ہےاور باقی 2300 روپے اسے واپس کردیتا ہے، چونکہ آگے اس نے صراف کو بھی 200 روپے ادا کرنے ہوتے ہیں جن کا ازالہ یہاں سے ہوجاتا ہے؟کیا اس طرح معاملہ کرناجائز ہے؟

جواب

ایک ہی ملک کی کرنسی کےباہمی تبادلہ کے لئے جانبین میں برابری لازم ہے اور کمی بیشی جائز نہیں جبکہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا باہمی تبادلہ کمی زیادتی کے ساتھ بھی جائز ہے اور مروجہ کرنسی چونکہ ثمن عرفی ہے اس لئے مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں کی بجائے کسی ایک کرنسی  پر قبضہ ضروری ہے  تاکہ ادھار کے بدلہ ادھار کی بیع لازم نہ آئے۔نیز عقد میں مبیع کی جو قیمت عاقدین کی رضامندی سے مقرر ہوجائے تو اس سے زیادہ بائع کے لئے بغیر عوض کے لینا  جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق5000 ہزارروپے کے  نوٹ  4800 روپےسے تبادلہ کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے جوکہ جائز نہیں ۔جہاں تک دوسرے مسئلہ کی بات تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ عقد میں جو قیمت عاقدین کی رضامندی سے طے ہوجائے،اس سے زیادہ بائع کے لئے لینا جائز نہیں البتہ   اس طرح کرنا جائز ہےکہ بائع عقد میں مبیع کی قیمت زیادہ مقرر کرےیعنی ابتدا سے 2500 کی بجائے 2700 پر فروخت کرےتو پھروہ 5000 کے نوٹ میں سے 2700کاٹ سکتا ہے۔

 

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه.(مشكاة لمصابيح،باب الغصب والعارية،رقم الحديث:2946،ج:2،ص:889)

باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز)وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز۔ (تنوير الابصار مع الدر المختار،باب الربا،ج7،ص:414)

وعلتہ: أي علۃ التحریم الزیادۃ القدر المعہود بکیل أو وزن مع الجنس، فإن وجدا حرم الفضل والنساء، وإن عد ما حلا، وإن وجد أحدہما حل الفضل وحرم النساء.(رد المحتار على الدر المختار،باب الربوا،ج:5،ص:172)

والثمن تقدير لمالية المبيع باتفاق العاقدين، وإذا زاد في المبيع أو الثمن علم أيهما أخطأ في التقدير، وغلط فيه، وما هو الموجب الأصلي قد ثبت بالبيع، فإذا بينا التقدير كان ذلك بيانا للموجب الأصلي.(بدائع الصنائع،فصل في حكم البيع،ج:5،ص:259)


فتویٰ نمبر : 3397/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں