بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

”اگر تم میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی توتجھے طلاق ہے“ کے الفاظ کہنے کے بعد اجازت دینے کا حکم


سوال

 ایک شخص نے بیوی کو طلاقِ معلق دی اور  کہاکہ  ”اگر تم میری اجازت کے بغیر گھر سے نکلی توتجھے طلاق ہے“ لیکن بعد میں شوہر  نے اس پر ندامت کا اظہار کیا اور بیوی سے کہا  کہ میں اس وقت  غصے کی حالت میں تھا، لہذا   میری اجازت کےبغیر بھی جاسکتی ہو ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شوہر کا اس  تعلیق سے رجوع ٹھیک ہے یا اب بھی یہ طلاق معلق بالشرط ہی رہے گی؟

جواب

واضح رہے کہ اگربیوی کے گھر سے نکلنے کے ساتھ طلاق کو معلق کیا جائے توجب بھی بیوی گھر سے نکلے گی تو اسے طلاق  واقع ہوجائے گی۔تاہم اگرشوہر نے طلاق کو ”اجازت کےبغیرنکلنے “کے ساتھ معلق  کیا ہو تو ایسی صورت میں اگر بیوی شوہر کی اجازت سے گھر سے نکلے گی تو طلاق واقع نہیں ہوگی،اور اگر شوہر کی اجازت کے بغیر نکلے گی تو شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوگی،البتہ اگر شوہر ہمیشہ کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت دے دے تو پھر جب بھی وہ نکلے گی  طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق   شوہر نے  ”اجازت کے بغیر بیوی کے گھر سے نکلنے“ کے ساتھ طلاق معلق کی ہے،تاہم بعد میں چونکہ شوہر نے مطلقاً نکلنے کی اجازت دی ہے ،لہذا اس کے بعد بیوی جب بھی گھرسے  نکلے گی تو  طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

" وإذا أضافه إلى شرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ".(الهداية، كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، ج:1، ص:244)

(لا تخرجي) بغير إذني أو (إلا بإذني) أو بأمري أو بعلمي أو برضاي (شرط) للبر (لكل خروج إذن)إلا لغرق أو حرق أو فرقة، ‌ولو ‌نوى ‌الاذن ‌مرة ‌دين، وتنحل يمينه بخروجها مرةً بلا إذن، ولو قال: كلما خرجت فقد أذنت لك سقط إذنه، ولو نهاها بعد ذلك صح عند محمد، وعليه الفتوى. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب الأيمان، باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى، ص:288)

(قوله ‌شرط ‌للبر ‌لكل ‌خروج إذن) للبر متعلق بشرط، ولكل متعلق بنائب الفاعل وهو إذن لا بشرط لئلا يلزم تعدية فعل بحرفين متفقي اللفظ والمعنى أفاده القهستاني، ثم لا يخفى أن اشتراط الإذن راجع لقوله إلا بإذني أما ما بعده فيشترط فيه الأمر أو العلم أو الرضا، وإنما شرط تكراره لأن المستثنى خروج مقرون بالإذن فما وراءه داخل في المنع العام لأن المعنى لا تخرجي خروجا إلا خروجا ملصقا بإذني، قال في النهر: ويشترط في إذنه لها أن تسمعه وإلا لم يكن إذنا وأن تفهمه.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأيمان، مطلب لا تخرجي إلا بإذني، ج:3، ص:759)


فتویٰ نمبر : 6767/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں