بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آپﷺ کاداڑھی مبارک پر خضاب لگانے کی حقیقت


سوال

آپﷺ نے داڑھی مبارک پر خضاب  لگایاتھاکہ نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپﷺ داڑھی مبارک پر خضاب لگاتے تھے اس وجہ سے ہم بھی لگاتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ داڑھی پر سیاہ خضاب (رنگ)کے علاوہ دیگر خضاب لگانا آپﷺ کے ارشادات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل سے ثابت ہے۔  البتہ جہاں تک آپﷺ کا بذات خود خضاب لگانے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں روایات مختلف ہیں،لیکن اکثر محدثین اور احناف کے نزدیک راجح یہ ہے کہ آپ ﷺ نے خود خضاب استعمال نہیں فرمایا چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے آپﷺ کے خضاب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ" آپﷺ خضاب کی عمر کو پہنچے ہی نہیں تھے اگر میں چاہتا تو آپ کی داڑھی مبارک کے سفید بالوں کو گن سکتا تھا"اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپﷺ خضاب نہیں لگاتے تھے،البتہ جن روایات میں خضاب کا تذکرہ آیا ہے تو در حقیقت آپﷺ خوشبو کثرت سے استعمال کرتے تھے جس کا رنگ کبھی آپﷺ کی داڑھی مبارک پر لگ جاتا تو دیکھنے والے نے جب آپﷺ کی داڑھی مبارک کے بالوں کا رنگ متغیر دیکھا تو یہ سمجھاکہ آپﷺ نے خضاب لگایا ہےیا آپ ﷺ  صفائی کی غرض سے اپنے بالوں کو مہندی   سے دھوتے تو  بسا اوقات مہندی کا رنگ آپ کے بالوں میں لگ جاتا   اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھاکے پاس آپﷺ کےخضاب میں رنگے ہوئے بالوں کا ذکر ہےاس کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ ممکن ہے ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے موئے مبارک کے احترام  واکرام کی غرض سے اس پر خوشبو لگائی  جس سے وہ خضاب والا معلوم ہونے لگا اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ نے بذات خود خضاب استعمال نہیں فرمایا ،البتہ آپ کے ارشادات اور صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے اس لیے اگر کوئی سیاہ خضاب کے علاوہ دیگر خضاب سنت کی نیت سے لگائے تو باعث اجر و ثواب ہے۔

 

عن ثابت، قال: سئل أنس، عن خضاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إنه ‌لم ‌يبلغ ‌ما ‌يخضب، لو شئت أن أعد شمطاته في لحيته»(صحيح البخاري،كتاب اللباس،باب ما يذكر في الشيب،ج:7،ص:160)

سئل أنس بن مالك عن خضاب النبي صلى الله عليه وسلم؟ فقال: «لو شئت أن أعد شمطات كن في رأسه فعلت»، وقال: لم يختضب «وقد ‌اختضب ‌أبو ‌بكر بالحناء والكتم» واختضب عمر بالحناء بحتا "(صحيح مسلم،كتاب الفضائل،باب شيبه صلى الله عليه وسلم،ج:4،ص:1821)

عن جابر بن عبد الله، قال: ‌أتي ‌بأبي ‌قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد»(صحيح مسلم، كتاب اللباس، باب في صبغ الشعر...ج:3،ص:1663)

في حديث آخر: ‌رأيت ‌شعر ‌رسول ‌اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- عند أنس بن مالك مخضوبًا، فتأويله أنه كان قد طيبه فصار شبيهًا بالمخضوب...وأما ما جاء في حديث آخر أنه كان -صلى اللَّه عليه وسلم- يخضب تارة بحمرة وتارة بصفرة، فالمراد به أنه كان يغسل رأسه ولحيته بالحناء والزعفران تنقية وتنظيفًا وتطييبًا، ولما كان شعره -صلى اللَّه عليه وسلم- أسود لم يتصبغ به؛ لأن السواد لا يقبل لونًا آخر.(لمعات التنقيح،كتاب اللباس،الفصل الثاني،ج:7،ص:368)

واختلفت الرواية في أن النبي - صلى الله عليه وسلم - هل فعل ذلك في عمره؟ والأصح أنه لم يفعل.(المبسوط للسرخسي،كتاب التحري،ج:10،ص:199)

(قوله والأصح أنه - عليه الصلاة والسلام - ‌لم ‌يفعله) ‌لأنه ‌لم ‌يحتج إليه، لأنه توفي ولم يبلغ شيبه عشرين شعرة في رأسه ولحيته، بل كان سبع عشرة كما في البخاري وغيره.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،ج:6،ص:422)

يستحب للرجل ‌خضاب شعره ولحيته.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،ج:6،ص:422)

فأكثر المحدثين على أنه -صلى اللَّه عليه وسلم- ‌لم ‌يخضب ولم يبلغ شيبه حد الخضاب ...وأقول -وباللَّه التوفيق-: إنه -صلى اللَّه عليه وسلم- لم يخضبها قصدًا، ولكن كان -صلى اللَّه عليه وسلم- قد يغسل رأسه بالحناء تنظيفًا وتطييبًا، فكانت هذه الشعرات تتصبغ بها من غير أن يقصد خضابها.وقيل: إنه -صلى اللَّه عليه وسلم- كان يستعمل الطيب كثيرًا فيحسب الناظر كأنه خضب،(لمعات التنقيح،كتاب اللباس،الفصل الثاني،ج:7،ص:367)

قوله: (مخضوبا بالحناء والكتم) قد جاء أنه ما كان يخضب ولم يبلغ شيبه حد الخضاب وأجيب بأنه ‌لم ‌يخضب الشعر قصدا ولكن كان يغسل رأسه ولحيته بالحناء ونحوه فربما يبقى أثر ذلك في الشعر.(حاشية السندي على سنن ابن ماجه،باب الخضاب بالحناء،ج:2،ص:381)

وقد اعتذر أصحاب القول الأول عن حديث أبي رمثة وابن عمر بأن ذلك لم يكن خضابًا بالحناء، وإنما كان تغييرًا بالطيب، ولذلك قال ابن عمر رضي الله عنهما: كان يصبغ بالصفرة، ولم يقل: بالحناء، وهذه الصفرة هي التي قال عنها أبو رمثة: ردع من حناء، لأنَّه شبهها بها، وأما حديث أم سلمة فيحتمل أن يكون ذلك فعل بشعر رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ بعده بطيب أو غيره احترامًا وإكرامًا. والله أعلم.( المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم،كتاب النبوات وفضائل نبينا محمد صلى الله عليه وسلم،ج:6،ص:132)


فتویٰ نمبر : 5594/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں