بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

چوری کی بجلی سے حاصل شدہ اشیاء کا حکم


سوال

بجلی کی کنڈی لگانے سے یا میٹر کو سلو کرنے سے جو بجلی چوری کی جاتی ہے تو کیا اس چوری کی بجلی سے جو پانی کا پمپ چلتا ہے اور کپڑے بھی استری ہوتے ہیں اور پھر اسی پانی سے ہم وضو کرتے ہیں اور ان کپڑوں ميں   نماز پڑھتے ہیں، اور اسی چوری کی بجلی سے اگر ہم کھانابھی پکائیں تو کیا اس سے نماز، کھانا بھی حرام ہوجاتا ہے یا صرف بجلی کی چوری کا گناہ ہوگا؟

جواب

 جس طرح شخصی املاک کی چوری  شرعاًحرام  ہے، اسی طرح حکومتی املاک جیسے  بجلی وغیرہ کی چوری بھی شرعاً حرام ہے۔ خلاف ضابطہ چوری چھپکے بجلی استعمال کرنا عوام کی  حق تلفی اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آنے کی وجہ سےناجائز  ہے۔تاہم   چوری کی بجلی سے  حاصل شدہ پانی  حرام یا نجس نہیں اس لیے   اس سے وضو ہوجاتا ہے ،اسی طرح اس سے   استری شدہ کپڑے پہننا ،اور اس سے پکایا ہواکھانا  کھانا  حلال ہے ۔

 

‌"لا ‌يجوز ‌التصرف ‌في ‌مال ‌غيره بغير إذنه ولا ولاية".(الأشباه النظائر،كتاب الغصب،المسائل الاستحسانية،ص:243)

"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي…فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا".(درر الحکام في شرح مجلة الأحكام،مقدمة الكتاب، المقالۃ الثانیة، المادة: 97،ج:1،ص:98)

‌"ولا ‌يجوز ‌حمل ‌تراب ‌ربض ‌المصر ‌لأنه ‌حصن ‌فكان ‌حق ‌العامة ‌فإن ‌انهدم ‌الربض ‌ولا ‌يحتاج ‌إليه ‌جاز ‌كذا ‌في ‌الوجيز ‌للكردري".(الفتاوي الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج:5،ص:373)

"الصلاة في أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه، فكما كان بينه و بين الله تعالى يثاب،وما كان بينه وبين العباد يعاقب".(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب السابع،الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لايكره فيها،ج:1،ص:109)


فتویٰ نمبر : 5592/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں