بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

مدعی كےپاس گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ کی جگہ مدعی سے قسم لینا


سوال

اگر کوئی شخص دوسرے پر دعوی کرے او ر اس کے پاس کوئی گواہ موجود  نہ ہو ،اور صلح صفائی کے لیے فریقین جرگہ کا تقرر کریں  ،تو ایسی صورت میں کیا جرگہ والے مدعی علیہ کی جگہ مدعی کو قسم دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دعوی ثابت کرنے کے لیے مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے ،چنانچہ اگر مدعی گواہ پیش نہ کر سکے تو  مدعی علیہ کوقسم دی جائی گی۔

 صورت مسئولہ کے مطابق مقدمہ میں مدعی کے پاس گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ کی جگہ  جر گہ والوں کا مدعی کو  قسم کا کہنا اور اس پر فیصلہ کرنا جائز نہیں۔

 

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: «‌البينة ‌على ‌المدعي، واليمين على المدعى عليه.( سنن الترمذي،رقم الحديث:1341 ،ج:3،ص:618)

‌فكان ‌جعل ‌البينة حجة المدعي وجعل اليمين حجة المدعى عليه وضع الشيء في موضعه وهو حد الحكمة.( بدائع الصنائع،ج:6،ص:225)


فتویٰ نمبر : 5587/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں