بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ پر دکان لے کر آگے کسی اور کو کرایہ پر دینا


سوال

میں نے ایک دکان پانچ سال کے لیے پانچ لاکھ کرایے پر لی تھی، دو سال میں نے خود وہ دکان چلائی۔ اب مزید تین سال کے لیے میں وہ دکان آگے کسی اور کو چھ لاکھ میں دے رہا ہوں۔ کیا  میں یہ دکان کسی اور کو کرایہ پر دے سکتا ہوں؟ اور کیا میرے لیے یہ ایک لاکھ اضافی لینا درست ہے؟

جواب

کرایہ دار کے لیے کرایہ پر لی ہوئی چیز کو آگے کرایہ پر دینا جائز ہے بشرطیکہ جس کو کرایہ پر دے رہا ہو، اس کے استعمال سے اس چیز کے عین کو نقصان نہ ہو، نیز جتنے کرایہ پر خود لی ہو اس سے زیادہ کرایہ پر نہ دے۔ ہاں البتہ دو صورتوں میں اضافی کرایہ پر دے سکتا ہے: ۱۔ دوسرا کرایہ پہلے کی جنس سے نہ ہو، مثلا: اگر پہلا کرایہ روپوں میں ہو تو دوسرا کرایہ ڈالر میں ہو۔ ۲۔ کرایہ دار نے کرایہ پر لی ہوئی چیز میں کوئی اضافی کام کیا ہو مثلا:دکان میں سیلنگ، ٹائلز ، الماریاں، کاؤنٹروغیرہ لگائے ہوں تو ایسی صورت میں پہلے سے زیادہ کرایہ پر دے سکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں سائل کے لیے کسی اور کودکان کرایہ پر دیناجائز ہے بشرطیکہ اس کے کام سے دکان کو نقصان نہ ہو۔ اسی طرح سائل نے اگر دکان میں اپنی طرف سے کوئی اضافی کام کیا ہوتو پھر اس کے لیے ایک لاکھ اضافی لینا جائز ہے، لیکن اگر اس نے کوئی اضافی کام نہ کیا ہوتو پھر اس کے لیے یہ ایک لاکھ اضافی کرایہ لینا شرعا جائز نہیں۔

 

(وله السكنى بنفسه ‌وإسكان ‌غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد لانه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجئ، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ص:574، دار الكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 3389/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں