بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

زخم سے خون نکل رہا ہوتو نماز کا حکم


سوال

ایک شخص معذور ہو اوروہ اپنے عذر کو ختم کرنے پر قادر ہو  (مثلاخون  کو بند کرنے پر قادر ہو)ليكن باوجود اس کے  اس نے  اسی حالت میں  نماز ادا   کی تو آیا اس شخص کی نماز ادا ہوجائے گی یانہیں؟

جواب

اگرکوئی عذر ایسا ہوکہ  جس کو ختم کرنے پرآدمی  قادر ہو مثلاًپٹی کے ذریعے خون کو بند کر سكتا ہوتواسی حالت میں اس کے لیے نماز پڑھنا جائز نہیں۔اگر اسی حالت میں نماز پڑھی ہو تو اس کا اعادہ لازم ہوگا۔

 

عن علي بن طلق، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا ‌فسا ‌أحدكم في الصلاة، فلينصرف فليتوضأ وليعد الصلاة.(سنن أبو داؤد،باب من يحدث فى الصلاة،ج:1،ص:53)

وإذا كان بالرجل جرح إن قعد أو قام سال، وإن استلقى على قفاه رقأ الجرح، فإنه يصلي قائماً يركع ويسجد، وكذلك من به ‌سلسل البول إذا كان بحيث يستمسك إذا استلقى على قفاه، وإنما كان كذلك، وذلك؛ لأن الصلاة مع الحدث في حالة الاختيار لا تجوز بحال، والصلاة مستلقياً على قفاه فكذلك، فاستويا من هذا الوجه إلا أنه إذا صلى قائماً فاته فرض واحد وهو الطهارة من الحدث.( المحيط البرهاني في الفقه النعماني، الفصل الحادي والثلاثون فى صلاة المريض،ج:2،ص:151)


فتویٰ نمبر : 9823/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں