بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

خالہ کو چھوتے وقت آلہ تناسل میں انتشار آنے سے حرمت مصاہرت کا حکم


سوال

زید نے رات کے وقت ایک مرتبہ اپنی سگی خالہ کا سر دبایا اور خالہ کو نیند آگئی تھی،تو اسی دوران زید کے دل میں کچھ شہوانی جذبہ پیدا ہوا تو زید نے اپنے آلہ تناسل میں معمولی سر سراہٹ محسوس کی پھر چند سیکنڈ بعد زید کو انتشار کی کیفیت ہونے لگی، تو اسی  دوران زید نے فوراً ہاتھ اٹھا لیا ، زید نے اپنا ہاتھ اٹھا لینے کے بعد اپنے آلہ تناسل کی جانب غور کیا تو معمولی سی سختی اس کو محسوس ہوئی پھر وہ سختی بڑھتی چلی گئی، البتہ چھوتے وقت آلہ تناسل میں سختی ہوئی ہے یا نہیں  اس کا زید کو علم نہیں ، چھوتے وقت سر سراہٹ کا ہونا تو یقین کے ساتھ یاد ہے اور ہاتھ اٹھا لینے کے بعد معمولی سختی کا ہونا بھی یاد ہے البتہ چھوتے وقت سختی کا ہونا اس کو بالکل بھی یاد نہیں اس نے یاد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پھر بھی وہ کہتا  ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ مجھے بالکل بھی یاد نہیں براہ کرم رہنمائی فرمائیں کیا اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی عورت کو ہاتھ لگانے سے حرمت مصاہر ت تب  ثابت ہوتی ہے،جب مندرجہ ذیل شرائط پائی جائیں:

(1) درمیان میں کوئی ایسا حائل نہ ہوجو بدن کی حرارت ہاتھ تک پہنچنےسے مانع ہو۔

(2) جس عورت کو ہاتھ لگایا ہو ،وہ  قابل شہوت ہو۔

(3) ہاتھ لگاتے وقت شہوت  پیدا ہوجائے یا پہلے سے موجودہ شہوت میں اضافہ ہوجائے۔

(4)ہاتھ لگانا جماع کی  طرف داعی ہو،لہذا اگر ہاتھ لگاتے وقت انزال ہوجائےتو حرمت ثابت نہ ہوگی کیونکہ انزال سے معلوم ہوا کہ ہاتھ لگانا مفضی الی الجماع نہیں

(5)شہوت کی حد میں فقہاء کرام کی عبارات مختلف ہیں،بعض نےتحرک آلہ یا انتشار کو معیار قرار دیا ہے،جبکہ اکثر نےملموسہ کی طرف قلبی میلان اور  رغبت مجامعت کو شرط قرار دیا ہے،چنانچہ اگر شہوت ملموسہ کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو،تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں  زید کا خالہ  کو  ہاتھ لگاتے وقت اگر اس کی طرف رغبت جماع بھی تھی اورشہوت بھی پیدا ہوئی، تو پھر حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے اور اگر خالہ کو ہاتھ لگانے میں رغبت جماع موجود نہ تھی تو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی۔

 

‌المس ‌إنما ‌يوجب ‌حرمة ‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة...ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين.ولو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح؛لأنه تبيين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطيء۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:340،341)

وما ‌ذكر ‌في ‌حد ‌الشهوة ‌من ‌أن ‌الصحيح أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا هو قول السرخسي وشيخ الإسلام، وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها...ثم هذا الحد في حق الشاب أما الشيخ والعنين فحدها تحرك قلبه أو زيادة تحركه إن كان متحركا لا مجرد ميلان النفس فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلا كالشيخ الفاني، والمراهق كالبالغ.(فتح القدير،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:129،مكتبة حقانية)

وتفسير الشهوة هي أن يشتهي بقلبه ويعرف ذلك بإقراره؛ لأنه باطن لا وقوف عليه لغيره، وتحرك الآلة وانتشارها هل هو شرط تحقيق الشهوة؟ اختلف المشايخ .وقال بعضهم: ليس بشرط هو الصحيح؛ لأن المس والنظر عن شهوة يتحقق بدون ذلك كالعنين والمجبوب ونحو ذلك.(بدائع الصنائع،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:233)


فتویٰ نمبر : 6769/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں