بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

نماز میں دنیاوی خیالات کاآنا


سوال

 فرض یا واجب نماز میں  یا ذکر اذکار میں کوشش کے باوجود دنیاوی خیالات آئیں تو عبادت کے اجرو ثواب پر اثر پڑتا ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کے دوران غیر اختیاری طور پر جو خیالات آتے ہیں، ان کی وجہ سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نمازی کو چاہیے کہ وہ نماز کی طرف متوجہ رہے، اور   نماز میں جو  پڑھتا ہے اس کی طرف دھیان رکھےاگر غیر اختیاری طورپر کوئی خیال وغیرہ آئے تو اس کو حتی الوسع دفع کرنے کی کوشش کرےاگر دفع نہ ہو تب بھی نمازپر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

اسی طرح ذکر واذکار میں دنیاوی خیالات کےروکنے کی  کوشش کے باوجود آنےسے عبادت کے اجر وثواب پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

 

حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك؛ أنه بلغه , أن رجلا سأل القاسم بن محمد فقال: ‌إني ‌أهم ‌في صلاتي، فيكثر ذلك علي، فقال القاسم بن محمد: امض في صلاتك، فإنه لن يذهب عنك، حتى تنصرف وأنت تقول: ما أتممت صلاتي.(مؤطا امام مالک ،باب العمل في السهو،ص:190)


فتویٰ نمبر : 5600/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں