بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

والد کی زبردستی اور دباؤسے تحریری طلاق دینا


سوال

میرے شادی کے چار ماہ ہوئے تھے لیکن معاملات ٹھیک نہیں چل رہے تھے،جس کی وجہ سے میرے والدین بھی اس کے خلاف ہوگئے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنےوالد صاحب سے دباؤ میں آکراپنی بیوی کو تحریری تین(3)طلاقیں دیں۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ نہ مجھے طلاق کا علم تھا،نہ اپنی مرضی سے طلاق دی ہے اور نہ ہی میں نے زبان سے طلاق کے الفاظ بولے تھے۔نیز دل سے طلاق دینے کا ارادہ بھی نہیں تھا ۔میں ذہنی طور پر بہت(disturb)تھا اور محض گھروالوں کے دباؤ سے جان چھڑانے کے لئے طلاق نامہ پر دستخط کیاہے اور ذہنی دباؤاور والد صاحب کے غصے کی ڈرسے ان کے سامنے یہ کہنے سے قاصر رہاکہ میں طلاق نہیں دیتا۔اب پوچھنا یہ ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ تحریری طلاق نامے پردستخط کرنےسے طلاق کےوقوع کے لئے شوہرکاارادہ طلاق ضروری ہے،یعنی جب شوہر طلاق نامہ خودلکھ لےیالکھےہوئےطلاق نامےپرطلاق دینےکی نیت سےدستخط کرے تواس سےطلاق واقع ہوجاتی ہے،اور اگر  دستخط کرتے وقت طلاق کی نیت نہ ہو، صرف جان خلاصی کا ارادہ ہو تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی  سائل کے  دل میں طلاق دینے کی نیت نہیں تھی صرف  گھروالوں  سے  وقتی طور پربچنے کے لئے طلاق نامہ پر دستخط کیا  تو اس سے کوئی طلا ق واقع نہیں ہوئی ،اور اگردستخط کرتےوقت دل میں طلاق کی  نیت تھی تو پھر تین طلاقیں واقع ہوچکی  ہیں۔

 

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.(فتاوى قاضي خان، كتاب الطلاق، فصل فى الطلاق بالكتابة، ج:1، ص:416)

(وأما) (أنواعه ) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد.(الفتاوى الهندية:كتاب الإكراه،الباب الاول،ج:5،ص:43)

ویقع طلاق کلّ زوج بالغ عاقل ولو عبداً أو مکرهاًفإن طلاقه صحیح .... وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لاتطلق؛ لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة، ولا حاجة هنا، كذا في الخانية.( ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الطلاق، مطلب: فى الإكراه على التوكيل بالطلاق والنكاح والعتاق، ج:4، ص:440)


فتویٰ نمبر : 6756/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں