بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

سری نمازمیں مائیک کی وجہ سے آواز کا بلند ہوجانا


سوال

بعض اوقات امام سری قرات کررہاہوتاہے لیکن مائیک منہ کے قریب ہونے کی وجہ سے  اس کی قرات مقتدیوں کوصاف سنائی دیتی ہے ،تو کیا اس کی وجہ سے نماز پر کوئی اثر پڑھتاہےنیز اس صورت میں امام پر سجدہ سہوہ لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  سری نماز میں آہستہ آواز سے  اور جہری  نمازمیں بلند آواز سے قرات کرنا واجب ہے ، جہری قرات کی حد یہ ہے کہ  کم از کم صف ِاول کی مقتدی اس کی قرات سن سکےجب کہ سر ی قرات کی حد یہ ہے کہ آدمی خود اس کو سن سکے، تاہم اگر قریب  کےایک دو آدمی سن لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر   امام صاحب  سری نماز میں اس طرح قراءت کرےکہ اگر مائیک نہ ہوتا تو قرات صرف  امام صاحب اور اس کے قریب ایک یا دو مقتدی کو سنائی دیتی لیکن مائیک کی وجہ سے مقتدیوں کو آواز پہنچی تو ایسی صورت میں  بغیر سجدسہوہ کے  نماز ادا ہوجائے گی ؛کیونکہ سجدہ سہوہ کسی واجب کے رہ جانےکی  صورت میں لازم ہوتا ہے اوریہاں کوئی واجب فوت نہیں ہوا ،تاہم مسجد کے ذمہ دار حضرات کو چاہیے کہ مائیک کی آواز اتنی تیز نہ رکھیں  کہ امام کی سری قرات بھی مقتدیوں کوسنائی دے۔نیز امام صاحب کو بھی مائیک منہ سے زیادہ قریب نہیں رکھناچاہیے۔

 

أدنى الجهر أن يسمع غيره وأدنى المخافتة أن يسمع نفسه وعلى هذا يعتمد. كذا في المحيط وهو الصحيح.(الفتاوى الهندية،الفصل الثالث في سنن الصلوة،ج:1،ص:72)

وفي الخلاصة الإمام إذا قرأ في صلاة المخافتة بحيث سمع رجل أو رجلان لا يكون جهرا والجهر أن يسمع الكل(بحرالرائق،باب  أداب الصلوة،ج:1،ص:356)

أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلا... وأدنى الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول،(ردالمحتار مع ردالمختار،فصل في القراة،ج:1،ص:535)

وعن محمد بن مزاحم قال: صليت خلف سعيد بن جبير فكان الصف الأول يفقهون قراءته في الظهر والعصر،(البناية شرح الهداية،ج:2،ص:294)


فتویٰ نمبر : 9807/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں