بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کی شرعی مقدار


سوال

داڑھی کے متعلق فقہاے کرام فرماتے ہیں کہ ایک قبضہ تک ہونی چاہیے تو کیا اس قول کی بنا کسی مستند حدیث پر ہے؟ یا  جو اہل حدیث کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی داڑھی مبارک اتنی لمبی تھی اس لیے ہم اتنی لمبی داڑھیاں رکھتے ہیں تو ان کے پاس کوئی دلیل ہے؟

جواب

 تمام انبیاے کرام کی سنت اوراسلام کے شعائر ہونے کی وجہ  سےفقہاےکرام نے داڑھی رکھنے کو واجب قرار دیا ہے۔احادیث مبارکہ میں ‌"احفوا ‌الشوارب واعفوا اللحى"کا ارشاد منقول ہے یعنی داڑھیوں کو بڑھانے اور مونچھوں کو کتروانے کا حکم دیا گیا ہے۔البتہ داڑھی کی واجب مقدار لمبائی اور چوڑائی میں ایک مٹھی کے بقدر ہے۔ ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں:"واللحية عندنا طولها بقدر القبضة"کہ ہمارے نزدیک داڑھی کی لمبائی کی مقدار ایک مٹھی کے بقدر ہے،اور علامہ حصکفی ؒ فرماتے ہیں:"والسنة فيها القبضة" داڑھی میں سنت مقدار ایک مٹھی ہے۔ چنانچہ داڑھی کے جو بال ایک مٹھی سے زائد ہوں ان کو کاٹا جاسکتا ہےاوراس کا ثبوت احادیث مبارکہ سے ملتا ہے،چنانچہ ترمذی کی روایت ہے"أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌كان ‌يأخذ ‌من ‌لحيته من عرضها وطولها".آپﷺ اپنی داڑھی مبارک کے بال طول وعرض سے کچھ کاٹتے تھے۔اسی طرح امام ابو يوسف كے آثار ميں حضرت ابو قحافہ کی روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس لائے گئے، اور ان کی داڑھی منتشر تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" کاش تم اس داڑھی کے کناروں کو کاٹ  دو" صحیح بخاری  میں ہےابن عمر رضی اللہ عنہ جب   حج یا عمرہ کرلیتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی سے پکڑ تے اور زائد بالوں کو کاٹ دیتے۔اور مصنف ابن ابی شیبۃکی روایت ہےکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑ لیا کرتے تھے، پھر جو مٹھی سے زائد ہوتی تھی اس کو کاٹ دیا کرتے تھے۔ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشت سے زائد داڑھی کے بالوں کو کاٹا جاسکتا ہے۔

جن روایات میں اعفاء اللحیۃ یا تطویل اللحیہ کا حکم وارد ہےاس سے مراد ایک مشت کی مقدارہے یعنی داڑھیوں کو بڑھانے کا حکم ایک مشت تک ہے،کیونکہ  داڑهی بڑھانے کی اکثر روایات ابن عمر اور ابو ہریرۃ رضی اللہ عنھماسے مروی ہیں اورراوی کا عمل روایت کردہ حدیث  کےخلاف نہیں ہوسکتابلکہ درحقیقت اس کا عمل اس حدیث کی تفسیر وبیان ہوتاہے۔نیز داڑھی کی شرعی مقدار کا خود اپنی عقل سے پہچاننا  ناممکن ہے ، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ان حضرات نے ایک مٹھی داڑھی کی مقدار کو آپﷺ سے حاصل کیا ہے۔اسی طرح آپﷺ کے قول وفعل سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ "اعفاء" کا حکم مطلق نہیں  کیونکہ آپ ﷺ کا اپنی داڑھی مبارک کے بال کاکچھ کاٹ لینا اسی طرح ابو قحافہ کو داڑھی کے بال کے کناروں کو کاٹ لینے کا حکم کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اعفاء کا حکم مطلق نہیں بلکہ  مقید  ہے  جس کی  مقدار ابن عمر  و ابو ہریرہ رضی اللہ عنھما کی روایت سے ثابت ہے کہ وہ ایک مشت ہے۔

 

عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌احفوا ‌الشوارب واعفوا اللحى.(سنن الترمذي،أبواب الأدب،باب ما جاء في إعفاء اللحية،ج:4،ص:392)

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌كان ‌يأخذ ‌من ‌لحيته من عرضها وطولها.(سنن الترمذي،أبواب الأدب،باب ما جاء في الأخذ من اللحية،ج:4،ص:391)

عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن عمر: «إذا حج أو اعتمر ‌قبض ‌على ‌لحيته، فما فضل أخذه»(صحيح البخاري،كتاب اللباس،باب تقليم الأظفار،ج:7،ص:160)

عن أبي زرعة، عن أبي هريرة: «أنه ‌كان ‌يأخذ ‌من ‌لحيته ما جاوز القبضة».(مصنف ابن أبي شيبة،كتاب الأدب،ج:5،ص:225)

‌واللحية ‌عندنا طولها بقدر القبضة بضم القاف وما وراء ذلك يجب قطعه. روي «عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم: أنه كان يأخذ من اللحية من طولها وعرضها».(مرقاة المفاتيح،كتاب اللباس،باب الترجل،ج:7،ص:2822)

ولا بأس بنتف الشيب أخذ أطراف اللحية، ‌والسنة ‌فيها ‌القبضة.(الدر المختار على صدر رد المختار،كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،ج:6،ص:407)

ويمكن أن يجاب عنه أن المراد بإعفاء اللحى أن لا تحلق كلها كما يفعله المجوس.(البناية،كتاب الصوم ،السواك للصائم،ج:4،ص:73)

«‌أحفوا ‌الشوارب واعفوا اللحى» فمحمول على إعفائها من أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم فيقع بذلك الجمع بين الروايات، وأما الأخذ منها، وهي دون ذلك كما يفعل بعض المغاربة والمخنثة من الرجال فلم يبحه أحد كذا في فتح القدير.(البحر الرائق،كتاب الصوم،فصل في عوارض الفطر في رمضان،ج:2،ص:302)

‌وإعفاء ‌اللحية أي الوارد في الصحيحين تركها حتى تكثر، والسنة قدر القبضة، فما زاد قطعه.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحج،باب الجنايات في الحج..،ج:2،ص:550)

عن أبي قحافة رضي الله عنه أنه أتي به النبي صلى الله عليه وسلم ‌ولحيته ‌قد ‌انتشرت فقال: «لو أخذتم» وأشار بيده إلى نواحي لحيته.( الآثار لأبي يوسف،باب في الخضاب والأخذ من اللحية والشارب،ص:224)


فتویٰ نمبر : 5584/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں