بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قبرستان کے راستےکےلئے اس کا کچھ حصہ دینا
سوال
ایک وقف شدہ قبرستان ہے،جس کا راستہ نہیں ہےاور جس بندے کی آگے زمین ہےوہ کسی صورت میں بھی قبرستان کو راستہ دینے پر راضی نہیں ہوتا۔کافی اصرار کے بعد اس بات پر راضی ہواکہ مجھے قبرستان سے زمین دو اور اس کے بدلے میں راستہ لے لو،کیا یہ صورت جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب زمین کا وقف تام ہوجائے تو اس کو اسی مقصد میں استعمال کرنا ضروری ہے جس کے لئے وقف کی گئی ہے۔اگر اس مقصد کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو کسی اور مقصد میں استعمال کرنا جائز نہیں البتہ اگر موقوفہ زمین سےوہ مقصد حاصل کرنا ناممکن یا دشوار ہوجائےتوپھر اس کا استبدال جائز ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر موقوفہ قبرستان کے لئے راستہ نہ ہو اور نہ ہی رقم کے ذریعے راستہ دینے کے لئے کوئی اپنی زمین بیچتا ہو تو چونکہ راستہ کے بغیر قبرستان میں مردوں کو دفنانا مشکل ہے،اس لئے مفادِ عامہ کی خاطراس کا کچھ حصہ اس کے راستہ کے عوض دیاجاسکتا ہےالبتہ اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ جتنے راستے کی ضرورت ہو ،اس کے بقدر تبادلہ کیا جائے اور غبن فاحش کے ساتھ تبادلہ نہ ہو۔
مراعاة غرض الواقفين واجبة والعرف يصلح مخصصا.(رد المحتار على الدر المختار،فصل في المصادقة على النظر،ج:4،ص:445)
عن الفقيه أبي جعفر عن هشام عن محمد أنه يجوز أن يجعل شيء من الطريق مسجدا أو يجعل شيء من المسجد طريقا للعامة اهـ يعني إذا احتاجوا إلى ذلك ولأهل المسجد أن يجعلوا الرحبة مسجدا وكذا على القلب.(تبيين الحقائق،كتاب اكوقف،ج:3،ص:333)
أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو محمد يكون بأحد طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو بحصول المقصود وذلك بالسكنى في مسألة الدار، وبالنزول في مسألة الخان، وبالدفن في مسألة المقبرة وما أشبهه ذلك.(المحيط البرهاني ، كتاب الوقف ، الفصل الثاني والعشرون ، ج :7 ص: 142)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں