بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بہن کے حصے سے حاصل شدہ منافع کا حکم


سوال

اگرکسی بھائی نے بہن کو میراث میں حصہ نہیں دیا ،اور بیس سال سے اس کے حصے سے نفع کمایا اب بہن کو اس کا حصہ دینا چاہتاہے تو بیس سال جو منافع حاصل کئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ان کو بھی ادا کرنا ہوگایا وہ معاف ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مشترکہ مال میراث میں جب کوئی وارث اپنی طرف سے تصرف کرے اور دیگر ورثا کی طرف سے اسے نہ صریحی اجازت حاصل ہو اور نہ اشارۃ ، تو اس صورت میں اس کے لیے تصرف جائز نہیں لہذا  اس سے  حاصل شدہ نفع فقراء میں تقسیم کرےگا ،لیکن اگر دیگر ورثا کی  طرف سے تصرف کی اجازت ہو تو یہ اجازت اگر شراکت کی بنیاد پر ہو تو حاصل شدہ نفع میں سب شریک ہونگے اور اگر قرض کے طور پر ہو تو نفع سارا کا سارا تصرف کرنے والے کا ہی شمار ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگر  بہن کے حصے سے اس کی اجازت سے  منافع حاصل کئے ہو ں،تو  اس کے لیے وہ منافع  حلال ہیں ، اور اس کو واپس کرنا اس پر لازم نہیں ،لیکن اگر بہن کا حصہ اس کی اجازت کے بغیر استعمال کر کے اس سے نفع حاصل کیا ہو تو اس نفع کو   فقراء پر صدقہ کرےگا۔

 

إذا أخذ أحد الورثة مبلغا من الدراهم من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه وخسر فتكون الخسارة عائدة إليه كما أنه ربح فلا يسوغ لبقية الورثة طلب حصة منه)لإنه إما غاصب أو مستودع،وكل منهمااستربح فيما في يده لنفسه، يكون ربحه له لا للمالك،لكن يملكه ملكاخبيثا سبيله التصدق علی الفقراء.(شرح المجلة ،المادة:1090،ج:4،ص:29۔30)

‌التصرف ‌في ‌ملك ‌الغير بغير الإذن غير صحيح.( البناية شرح الهداية،باب اشتراط القبض لإنعقاد الهبة،ج:10،ص:163)


فتویٰ نمبر : 3496/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں