بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
حادثاتی موت میں دیت کا حکم
سوال
زید گاڑی کا ڈرائیور ہے۔کچھ دن پہلے کوسٹرگاڑی میں سواریاں بٹھا کرگلگت جارہا تھا۔راستے میں گاڑی کا بریک فیل ہوااور گاڑی گہری کھائی میں جاگری،جس میں چھ(6)بندے فوت ہوگئےاور آٹھ ،دس افراد شدید زخمی ہوئےجبکہ ڈرائیوربچ چکا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ زید پر ان لوگوں کی دیت آتی ہے کہ نہیں اور اگر خدانخواستہ زید بھی مرچکا ہوتا تو زید کے ورثاء پردیت واجب ہوتی کہ نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے مرنے کا سبب بن جائے تو اگر اس کی طرف سے کوئی تعدی اور قصور ہو تو اس پر صرف دیت لازم ہوتی ہے اور اگر اس کی طرف سے تعدی اور قصور نہ ہوتو پھر دیت لازم نہیں ہوتی۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر گاڑی کے بریک فیل ہونے میں ڈرائیور کی بےاحتیاطی اور کوتاہی نہ تھی اور حادثاتی طورپر دورانِ سفر اچانک بریک فیل ہونے کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان ہوا تو ایسی صورت میں ڈرائیور پرکوئی دیت نہیں اور اگر بریک ڈرائیور کی غلطی اور بےاحتیاطی کی وجہ سے فیل ہوا ہو کہ پہلے سے بریک خراب تھا اور ٹھیک نہیں کیایا اس طرح کی گاڑی ان علاقوں میں سفر کے لئے مناسب نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ڈرائیورنے اس گاڑی پر سفر کیا تو ایسی صورت میں دیت لازم ہوگی اور اس کی ادائیگی ڈرائیور کی "عاقلہ"کے ذمہ ہوگی اور عاقلہ سے مراد وہ جماعت،تنظیم یا کمیونٹی ہے جس کےساتھ اس ڈرائیور کا باہمی تعاون اور تناصر کا تعلق ہو ۔
قال: "ومن قاد قطارا فهو ضامن لما أوطأ"، فإن وطئ بعير إنسانا ضمن به القائد والدية على العاقلة لأن القائد عليه حفظ القطار كالسائق وقد أمكنه ذلك وقد صار متعديابالتقصير فيه، والتسبب بوصف التعدي سبب للضمان، إلا أن ضمان النفس على العاقلة فيه وضمان المال في ماله.(الهداية،كتاب الديات،باب جناية البهيمة،ج:4،ص:481)
وأما القتل بسبب فمثل حفر البئر ووضع الحجر في غير ملكه كذا في الكافي ولو وطئت دابته إنسانا فقتلته، وهو سائقها، أو قائدها فهو قتل بسبب كذا في المضمرات وموجبه إذا تلف به آدمي الدية على العاقلة، ولا يتعلق به الكفارة، ولا حرمان الميراث عندنا كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية،كتاب الجنايات،الباب الثاني فيمن يقتل قصاصا،ج:6،ص:3)
لكل أحد حق المرور في الطريق العام مع حيوانه أيضا فلذلك لا يضمن المار راكبا على حيوانه في الطريق العام الضرر والخسارة اللذين لا يمكن التحرز عنهما مثلا: لو انتشر أو تطاير من رجل الدابة غبار أو طين ولوث ثياب الآخر ورفست برجلها المؤخرة أو لطمت بذيلها وأضرت لا يلزم الضمان(مجلة الأحكام العدلية،الباب الثاني في الإتلاف،رقم المادة:929،932،ص:182)
ولو سقط حائط أحد وأورث غيره ضررا لا يلزم الضمان ولكن لو كان الحائط مائلا للانهدام أولا وكان قد نبه عليه أحد وتقدم الناس بالقول له: اهدم حائطك وكان قد مضى وقت يمكن هدم الحائط فيه يلزم الضمان ولكن يشترط أن يكون المنبه من أصحاب حق التقدم والتنبيه أي: إذا كان الحائط سقط على دار الجيران يلزم أن يكون الذي تقدم للتنبيه من سكان تلك الدار ولا يفيد تقدم أحد من الخارج وتنبهه.(مجلة الأحكام العدلية،الباب الثاني في بيان الإتلاف،رقم المادة:928،ص:180)
والمباشر ضامن وإن لم يتعمد، المتسبب لا يضمن إلا بالتعمد.(مجلة الأحكام العدلية،المقالة الثاية في القواعد الكلية،رقم المادة:92،93،ص:27)
قال (والعاقلة أهل الديوان إن كان القاتل من أهل الديوان يؤخذ من عطاياهم في ثلاث سنين) وأهل الديوان أهل الرايات وهم الجيش الذين كتبت أساميهم في الديوان وهذا عندنا.(فتح القدير،كتاب المعاقل،ج:10،ص:395)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں