بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
غیر مسلم عورت سے مسجد کا افتتاح کرانا
سوال
کیا غیر مسلم عورت جوکسی بڑے عہدے پر فائز ہو اس کےہاتھوں سے مسجد کا افتتاح کراسکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی مسجد کا افتتاح ایک بابرکت موقع ہوتاہے، ایک مسلمان کو اس موقع پر خیر و برکت کے حصول کے لیے ذکر واذکار ودعا وغیرہ کا اہتمام کرناچاہیے،نیز اگر یہ عمل کسی بابرکت اور نیک شخصیت کو بلا کراس سے کروایاجائےتواس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن كسی غیر مسلم عورت کے ہاتھوں سے مسجد کاافتتاح کرانا سخت ناپسندیدہ عمل ہے،شريعت میں اس کی کوئی اجازت نہیں۔
قال الله تعالى: ﴿ لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ﴾آل عمران:28،قال الجصاص:فيه نهي عن اتخاذ الكافرين أولياء لأنه جَزَمَ الفعلَ فهو إذا نهي وليس بخبر قال ابن عباس: نهى الله تعالى المؤمنين بهذه الآية أن يلاطفوا ونظيرها من الآي قوله تعالى لا تتخذوا بطانة...الخ(أحكام القرآن للجصاص،ج:2،ص:288)
يا أيها الذين آمنوا لاَ تَتَّخِذُواْ اليهود والنصارى أَوْلِيَاءَ} أي لا تتخذوهم أولياء تنصرونهم وتستنصرونهم وتؤاخونهم وتعاشرونهم معاشرة المؤمنين ثم علل النهي بقوله {بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ} وكلهم أعداء المؤمنين.(تفسير النسفي،ج:1،ص:353)
عن محمود بن الربيع الانصاري، ان عتبان بن مالك يا رسول الله، إنها تكون الظلمة والسيل وانا رجل ضرير البصر، فصل يا رسول الله في بيتي مكانا اتخذه مصلى، فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: اين تحب ان اصلي؟ فاشار إلى مكان من البيت فصلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم،قال العینی: وفيه من الفوائد جواز إمامة الأعمى وترك الجماعة للعذر والتماس دخول الأكابر منزل الأصاغر واتخاذ موضع معين من البيت مسجدا وغيره.(عمدة القاري،باب الرخصة في المطر،ج:8،ص:309)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں