بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

عقدِ بیع میں جہالت اور شرط فاسد لگانے کا حکم


سوال

ایک شخص نے دوسرے پر پانچ مرلے کا پلاٹ بیچا،جب کہ پلاٹ کی حد بندی اور تعیین  نہیں کی گئی ہے ۔نیزفروخت کنندہ  نے  یہ شرط لگائی کہ  اس پلاٹ کو مشترکہ مفادات کے لیے استعمال کیا جائے گا لیکن خریدار  اس پلاٹ کے عوض کسی قسم  کا کرایہ وصول نہیں کرے گااور  اگر خریدار اس پلاٹ کو فروخت کرنا چاہے توواپس بیچنے والے پر ہی فروخت کرے گا ۔جب کہ خریدار نے یہ شرط لگائی کہ اگر میں اپنا حصہ بیچوں گا تو بیچنے والے کو بازاری قیمت پر فروخت کروں گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی شرائط لگانا  شرعاً درست ہے یا نہیں؟نیز اس طرح بیع ہوجانے کے بعد اگر اس کو ختم کرنا ہوتو کس  طریقہ سے ختم کریں گے؟

جواب

واضح رہے کہ زمین فروخت کرتے وقت اگر  پلاٹ کی مکمل حقیقت واضح کردی گئی ہو،اور اس کے حدود اربعہ متعین کرکے بیان کردئیے گئے ہوں، اور اس میں کسی قسم کے جھگڑے کا اندیشہ نہ ہو،تو اس صورت میں زمین کی خرید و فروخت جائز ہے۔ لیکن اگر پلاٹ کی حقیقت اس طرح واضح نہ ہو،اور نہ ہی اس کے حدود اربعہ متعین ہوں، تو جہالت  کی وجہ سے اس کی خرید وفروخت جائز نہیں  ۔نیز خرید وفروخت کا معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا  بھی جائز نہیں جو مقتضاے عقدکے خلاف ہویا اس میں بائع،مشتری یا مبیع  میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو ، اس سے بیع فاسد ہوجاتی ہے۔بیع فاسد کے عاقدین میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ اس عقد کو ختم کریں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  جب پلاٹ کی حد بندی اور تعیین  نہیں کی گئی ہو تو پلاٹ میں  جہالت کی وجہ  سے یہ بیع فاسد ہے۔ نیز اگر فروخت کنندہ نے سوال میں مذکور   شرائط   معاملہ طے کرتے وقت  لگائی ہوں تو چونکہ یہ مقتضاے عقد کے خلاف  شرائط ہیں اور اس میں فروخت کنندہ کا فائدہ ہے ،لہذااس سے بھی معاملہ  فاسد شمار ہوگا۔بہر حال  عاقدین پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو ختم کریں۔اور معاملہ  ختم کرنے سے  خریدار کو  وہی رقم واپس کی جائے گی جو اس نے عقد کے وقت دی تھی،اس پر اضافہ لینا جائز نہیں۔

 

(ومنها) شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري ‌أو ‌للمبيع ‌إن ‌كان من بني آدم كالرقيق وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس نحو ما إذا باع دارا على أن يسكنها البائع شهرا ثم يسلمها إليه أو أرضا على أن يزرعها سنة أو دابة على أن يركبها شهرا أو ثوبا على أن يلبسه أسبوعا۔۔۔۔فالبيع في هذا كله فاسد؛ لأن زيادة منفعة مشروطة في البيع تكون ربا. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:169)

"ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي". (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، مطلب: المعتبر ما وقع عليه العقد، ج:4، ص:454)

قال: "‌ولكل ‌واحد ‌من ‌المتعاقدين فسخه" رفعا للفساد، وهذا قبل القبض ظاهر؛ لأنه لم يفد حكمه فيكون الفسخ امتناعا منه، وكذا بعد القبض إذا كان الفساد في صلب العقد لقوته. (الهداية، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد،فصل في أحكامه، ج:3، ص:52)

وفسخ العقد ‌رفعه ‌من ‌الأصل، وجعله كأنه لم يكن، وإذا ارتفع العقد من الأصل عاد رأس المال إلى قديم ملك رب المال. (بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:181)

(المادة ٢٠١) يصير المبيع معلوما ببيان أحواله وصفاته التي تميزه عن غيره مثلا لو باعه كذا مدا من الحنطة الحمراء أو باعه أرضا مع بيان حدودها صار المبيع معلوما وصح البيع. (مجلة الأحكام العدلية،الكتاب الأول في البيوع،الفصل الأول: في حق شروط المبيع وأوصافه، ص:41)


فتویٰ نمبر : 3374/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں