بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

عقد مساقات میں ٹیوب ویل لگانے کا خرچہ


سوال

ہم نے باغ اجارے پر لیا ہے اگر ٹیوب ویل کا پانی خشک ہوجائے یا ٹیوب ویل منہدم ہوجائے تو دوسرا ٹیوب ویل لگاناکیا زمیندار کے ذمہ ہوگا ؟نیز اگر ٹیوب ویل میں کوئی خرابی آجائے تواس کی مرمت کا خرچہ کیا  کسان کے ذمہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ درختوں کو اجارے پر دینایا لینا جائز نہیں کیونکہ اجارہ شرعاًصرف منافع پر ہوتا ہے، تاہم باغ کو اجارے پر لینےکے جواز کی یہ صورت ممکن ہےکہ جس  شخص کو باغ اجارے پر دینا ہے اسی کے ساتھ پہلے درختوں میں مساقاۃ(بٹائی) کا معاملہ اس طور پر کرلیاجائےکہ حاصل ہونے والی پیداوار میں مثلاً   ایک حصہ مالک کا اور باقی ننانوے(99)  حصےکام کرنے والے کے لیےمقرر کر لیے جائیں۔  پھر  نئے عقد کے ساتھ  اسی شخص کو باغ کی زمین  متعین اجرت کے ساتھ اجارے پر دی جائے  ، تو ایسی صورت میں  اجارہ کی رو سے  کرایہ دار پر کرایہ لازم ہوگا اور مساقاۃ کی رو سے باغ کا مالک اور مساقاۃ پر لینے والا باغ کے پھلوں میں اپنے اپنے طے شدہ حصے کے حقدار ہوں گے۔اس میں یہ ضروری ہے کہ پہلے مساقاۃ کا عقد کیا جائے اس کےبعداجارہ کا عقد کیا جائے ۔نیز  مساقاۃ کے معاملے میں جن کاموں کی ضرورت وافادیت اس دورانیہ تک باقی رہتی ہو جس دورانیہ تک مساقاۃ کا معاملہ جاری رہے گا تو ایسے کام عامل کی ذمہ داری ہےالبتہ جو کام مستقل نوعیت کے ہوں اور ان کی افادیت وضرورت مساقاۃ کے معاملے کے بعد بھی برقرار رہے تو وہ  کام مالک زمین کی ذمہ داری ہے لہذا ایسے کاموں کی عامل پر شرط لگانے سے معاملہ فاسد ہوجاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق ٹیوب ویل سے فائدہ حاصل کرناچونکہ مساقاۃ کے معاملے کے بعد بھی برقرار رہتا ہے اس لیے   نیا ٹیوب ویل لگانا  مالک زمین کی ذمہ داری ہوگی ،البتہ جہاں تک خراب ٹیوب ویل کی مرمت کی بات ہے تو اگر عامل کی غفلت کے بغیر ٹیوب ویل میں خرابی آئی ہو توایسی صورت میں مرمت کی ذمہ داری مالک زمین کی ہوگی اور اگر خرابی عامل کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ہو تو پھرعامل  مرمت کرے گا۔

 

أن ‌اشتراط ‌ما ‌لا تبقى منفعته بعد المدة على المساقي كالتلقيح والتأبير والسقي جائز، وما تبقى منفعته بعدها كإلقاء السرقين ونصب العرائش وغرس الأشجار ونحو ذلك مفسد.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب المساقاة، ج:9،ص:421)

إذا هلكت الوديعة أو طرأ نقصان على قيمتها في حال تعدي المستودع أو تقصيره يلزم النقصان.(مجلة الأحكام العدلية،الباب الثاني في الوديعة،الفصل الثاني،المادة:787،ص:150)

لا تجوز إجارة الشجر والكرم للثمر؛ لأن الثمر عين والإجارة بيع المنفعة لا بيع العين.(بدائع الصنائع، كتاب الإجارة،ج:4،ص:175)

وإن ‌استأجر ‌أرضا فيها زرع للآجر أو شجر أو قصب أو كرم أو ما يمنع من الزراعة لم تجز؛ لأنها مشغولة بمال المؤاجر.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:188)

فالحيلة ‌في ‌ذلك ‌أن ‌يدفع ‌الزرع إليه معاملة إن كان الزرع لرب الأرض على أن يعمل المدفوع إليه في ذلك بنفسه وأجرائه وأعوانه على أن ما رزق الله تعالى من الغلة فهو بينهما على مائة سهم من ذلك للدافع وتسعة وتسعون سهما للمدفوع إليه ثم يأذن له الدافع أن يصرف السهم الذي له إلى مؤنة هذه الضيعة أو إلى شيء أراد ثم يؤاجر الأرض منه... وكذلك الحيلة في الشجر والكرم يدفع الشجر والكرم معاملة. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب السادس،ج:4،ص:447)


فتویٰ نمبر : 3386/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں