بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

Fiverrویب سائٹ پر کام کرنے کاحکم


سوال

ایک آن لائن ویب سائٹ ہے جس کا نام "Fiverr"ہے جس کے ذریعے لوگ کام کرتے ہیں  جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے کام کی تفصیل ویب سائٹ پر ڈالتے ہیں کہ میں فلاں کام کرسکتا ہوں  پھر وہاں آکر ہمیں کام دیتے ہیں ۔ہم اس کام کو کرکے پیسے  لیتے ہیں ،لیکن جب ہم ویب سائٹ سے پیسے نکالتے ہیں تو ہم سے یہ ویب سائٹ   پیسوں کی کچھ مقدار کاٹ لیتے ہیں اور یہ پیسے اس ویب سائٹ والوں کو جاتے ہیں تو اس پر کام کرنا کیسا ہے؟دوسری بات یہ ہے کہ یہ ویب سائٹ یہودیوں کا ہے اور اس کے پیسے اس کو جاتے ہیں تو اس صورت میں اس ویب سائٹ پر کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے ۔فری لانسنگ بھی عقد اجارہ  ہی کی ایک صورت ہے جس  میں فری لانسر کی حیثیت اجیر مشترک  کی ہے جبکہ  گاہک کی حیثیت  مستاجر کی ہوتی ہے اور ان دونوں کے مابین عقد اجارہ طے پاتاہے ،چنانچہ ان کے مابین ہونے والے  عقد میں اجارہ کی شرائط کا ہونا ضروری ہے،نیزغیر مسلموں کے ساتھ دنیاوی معاملات کرنا شریعت کے روسے مرخص ہے،تاہم دلی دوستی اور قلبی روابط قائم کرنا جائز  نہیں۔

صورت مسئولہ میں  Fiverrویب سائٹ  پر فری لانسنگ کے ذریعہ جو خدمات فراہم کی جاتی ہیں  اگر وہ  غیر شرعی امور  پر مشتمل نہ ہوں  تو ان کے عوض رقم وصول کرنا جائز ہے،نیزیہودیوں  کے ساتھ معاملات کرنا جائز ہے ،بشرطیکہ یقینی طور پر یہ  معلوم  نہ ہوکہ  اس کی آمدنی  مسلمانوں کے خلاف استعمال     ہوتی ہے ۔

 

عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌اشترى ‌من ‌يهودي طعاما إلى أجل، ورهنه درعا له من حديد».(صحيح مسلم،باب الرهن وجوازه في الحضر والسفر،ج:2،ص:31)

(الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غيرموقت)۔۔۔(أو موقتا بلا تخصيص)۔۔۔(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه).(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، باب ضمان الأجير،ج6،ص64)

ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا.  (الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،باب الاول،ج4،ص411)

ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد. (الهداية،كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،ج3،ص:306 ،الموادعة،ج:2،ص:382)


فتویٰ نمبر : 3377/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں